بالی میں دھماکے: پچیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے تفریحی جزیرے بالی میں تین دھماکوں میں پچیس افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ بی بی سی کےنامہ نگار کے مطابق یہ دھماکے بالی کے کوتا بیچ اور جمبارن بیچ پر ہوئے ہیں۔ تیسرا دھماکہ تیس کلومیٹر دور ہوا۔ بالی میں تین سال قبل بھی بم دھماکے ہوئے تھے جن میں دو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں اسی آسٹریلوی باشندے تھے۔ انڈونیشیا کے صدر سوسیلو بیم بانگ یودھویونا نے ان دھماکوں کو دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ وہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ کسی گروہ نے ابھی تک دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن شدت پسند جماعت، جمیعہ اسلامیہ پر شک کیا جا رہا ہے۔ بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق شدت پسند جماعت جمیعہ اسلامیہ پر انگلیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ تین سال پہلے بالی میں ہونے والے بم دھماکوں کا الزام بھی جمیعہ اسلامیہ پر لگایا گیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ جمیعہ اسلامیہ پر القاعدہ کے ساتھ تعلق ہیں۔ جزیرہ بالی میں رہائش پذیر لوگوں کی اکثریت ہندو ہے اور یہ غیر ملکی سیاحوں میں مشہور ہے۔ حکام کے مطابق دھماکے بہت پرہجوم جگہ پر ہوئے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ افراد کی جان لینا تھا۔ دھماکے کے عینی شاہد ایک برطانوی سیاح ڈینیل مارٹن کا کہنا ہے کہ ’ ایک زوردار آواز سنائی دی جس کے بعددکانوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ہر طرف افراتفری کا عالم تھا اور سڑکوں پر زخمی لوگ لیٹے ہوئے تھے‘۔ بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے ہوئے۔ شام کے وقت ساحل پر واقع ریستورانوں میں غیر ملکی سیاحوں اور تفریح کے لیے آئے ہوئے لوگوں کا رش ہوتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||