ابوبکر نئے الزامات میں گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کی پولیس نے شدت پسند عالم ابوبکر بشیر کو جیل سے چھوٹنے کے فوراً بعد دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔ ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ انہیں ان بم کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جو جامعیہ اسلامیہ نے کی ہیں۔ ابوبکر جو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں اٹھارہ ماہ تک جیل میں رہے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ جامعیہ اسلامیہ کے روحانی پیشوا ہیں۔ جمعہ کے روز جس وقت انہیں گرفتار کیا جا رہا تھا تو ان کے حامیوں اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس کو آنسو گیس اور پانی کی توپ کا استعمال کرنا پڑا۔ رائیٹرز خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ ابوبکر کو جیل سے گرفتاری کے بعد پولیس ہیڈکوارٹر لے جایا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ابوبکر کے خلاف بڑی تعداد میں شواہد موجود ہیں۔ ابوبکر بشیر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی گرفتاری کے خلاف لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس غیرملکی اشاروں پر ناچ رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||