اپنے راستے پر چلتا رہوں گا: ابو بکر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیائی مذہبی رہنما ابو بکر بشیر نے کہا ہے کہ وہ رہا ہونے کے بعد بھی اسلامی قانون کے نفاذ کی کوشش جاری رکھیں گے۔ جیل میں اپنی سزا کے نصف ہو جانے کے بعد ایک اخباری کانفرنس کے دوران ابو بکر بشیر نے امریکہ اور آسٹریلیا کی جانب سے مسلمانوں کو کی جانے والی تنبیہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ عدالت اگر ان پر لگائے گۓ تخریب کاری کے الزامات خارج کر دیتی ہے تو ابو بکر بشیر چند ہفتوں میں ہی رہا ہو سکتے ہیں۔ امریکہ اب بھی اس پر یقین رکھتا ہے کہ ابو بکر بشیر ہی جامعہ اسلامیہ کے قائد ہیں اور بالی بم دھماکوں کی منصوبہ بندی بھی انہوں نے ہی کی تھی۔ جکارتا کی سلمبا جیل میں اپنی پریس کانفرنس کے دوران ابو بکر بشیر نے امریکہ کو اسلام کا دشمن قرار دیا۔ امریکی وزارت خارجہ نے ابو بکر بشیر کے ان بیانات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔اور آسٹریلیا نے بھی ابو بکر بشیر کے بیانات پر اسی قسم کا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بالی بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے تمام افراد آسٹریلوی باشندے ہی تھے۔ اور آسٹریلیا کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس دہشت گردی کے پیچھے جامعہ اسلامیہ کا ہی ہاتھ ہے۔ سن دو ہزار دو کے بالی بم دھماکوں کے علاوہ گذشتہ اگست میں جکارتا میں میرئٹ ہوٹل پر کی جانے والی بمباری کے لیۓ بھی جامعہ اسلامیہ کو ہی ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ اس کارروائی میں بارہ افراد ہلاک ہوۓ تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||