| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کی امریکہ پر تنقید
انڈونیشیا کے وزیر خارجہ حسن وارایودا نے عراق کے بارے میں امریکی پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ عراق میں خانہ جنگی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر امریکی عراق میں مناسب سیاسی نظام قائم کرنے میں ناکام رہا تو عراق میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ انڈونیشیا کے وزیر خارجہ نے عراق کی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کے بارے میں بھی خدشہ ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی خلا کو پر نہ کیا گیا تو عراق فرقہ وارانہ بینادوں پر تقسیم ہو سکتا ہے۔ انڈونیشیا کے وزیر خارجہ نے جوسیکورٹی کے بارے میں جکارتہ میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے کہا کہ عراق میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم سے پورا مشرق وسطی عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عراق پر بغیر اقوام متحدہ کی منظوری کے امریکہ نے فوج کشی کر کے نہ صرف مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے بلکہ اس نے اقوام متحدہ کے ادارے کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونشیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ عراق میں ایک دلدل میں پھنس گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کی منظوری حاصل کرنے کے بعد عراق پر حملہ کیا جاتا تو امریکہ کو اس صورت حال کا سامنہ نہ کرنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے آسٹریلیا اور برطانیہ کو ساتھ ملا کر عراق کے مہلک ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر عراق پر حملہ کر دیا لیکن ان وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا کچھ پتا نہیں چل سکا۔ انڈونشیا آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کاسب سے بڑا ملک ہے اوروہ عراق پر امریکی حملے پر کھل کر تنقید کرتا رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||