BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 December, 2003, 17:58 GMT 22:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈونیشیائی طلباء جکارتہ واپس
گرفتار ہونے والے طلباء میں بالی بم دھماکوں کے لئے مبینہ طور پر ذمہ دار حنبلی کے بھائی بھی شامل ہیں

دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مبینہ تعلقات کے الزام میں پاکستان میں گرفتار کئے گئے چھ انڈونیشیائی طلباء کو جکارتہ واپس بھیج دیا گیا ہے۔

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق ان طلباء کو انڈونیشیا کے تفتیش کاروں کے حوالے کردیا گیا تھا۔ یہ تفتیش کار انڈونیشیا سے پاکستان آئے ہوئے تھے اور یہ ٹیم انڈونیشیائی طلباء کو اپنے ساتھ جکارتہ واپس لے گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان افراد کو سخت حفاظتی انتظامات میں ائیرپورٹ لے جایا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

دریں اثناء انڈونیشیاء کے جاسوسی ادارے کے سربراہ ارون ماپاسینگ نے کہا ہے کہ ان طلباء کو بدھ کے روز جکارتہ کے لئے روانہ ہونا تھا لیکن طیارے میں سیٹوں کی کمی کے باعث ان کی واپسی کو ایک دن کے لئے موخر کرنا پڑا۔

انڈونیشیا کے تفتیش کار منگل کو پاکستان پہنچے تھے تاکہ ان طلباء کو اپنی تحویل میں لے سکیں۔ اس سے قبل پاکستان کے تفتیشی ادارے ان طلباء سے پوچھ گچھ کرتے رہے ہیں۔

اسلام آباد میں سیکورٹی حکام کا الزام ہے کہ ان طلباء کا تعلق القاعدہ تنظیم کی ایک شاخ جمیعۃ اسلامیہ سے ہے۔ اس تنظیم پر اکتوبر دو ہزار دو میں بالی میں کئے جانے والے بم حملوں کا الزام ہے جں میں دو سو دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کراچی کی ابو بکر یونیورسٹی میں زیر تعلیم ان طلباء میں رسمان گنوان بھی شامل تھے جوکہ بالی بم دھماکوں کی مبینہ طور پر منصوبہ بندی کرنے والے شخص حنبلی کے چھوٹے بھائی ہیں۔

بدھ کے روز یہ معاملہ ابہام کا شکار ہوگیا تھا۔ اسلام آباد میں وزارت خارجہ اور داخلہ کا کہنا تھا کہ ان طلباء کو انڈونیشیا کے حکام کے حوالے کردیا گیا ہے لیکن کراچی میں انہیں گرفتار کرنے والے حکام کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی ان کی تحویل میں ہیں۔

ان طالب علموں کو ستمبر میں تیرہ ملیشیائی طلباء کے ساتھ دو دینی مدارس سے گرفتار کیا گیا تھا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے گزشتہ روز بی بی سی کو بتایا تھا انہیں انڈونیشیا کے حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔ اس کی تصدیق وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالرؤف چودھری نے بھی کی۔

تاہم کراچی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اہلکاروں کا اصرار تھا کہ طالب علم ان کی حراست میں ہیں۔

حنبلی فی الوقت امریکی تحویل میں ہیں اور انہیں کسی خفیہ مقام پر رکھا گیا ہے۔

انڈونیشیاء کی صدر میگاوتی سکارنو پتری تیرہ سے پندرہ دسمبر کے دوران پاکستان کا دورہ کریں گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد