ابو بکر بشیر پر نئے الزامات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کی پولیس نے کہا ہے کہ مسلمان مذہبی رہنما ابو بکر بشیر سے دہشت گردی کے الزامات کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔ پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ ان پر کس نوعیت کے نئے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ ماضی میں ابو بکر بشیر پر جمیعہ اسلامیہ کی روحانی طور پر رہنمائی کا الزام ہے۔ جمیعہ اسلامیہ جنوب مشرقی ایشیا کا ایک جنگجو گروہ ہے جس پر سن دو ہزار دو میں بالی میں ہونے والے بم دھماکوں کی ذمہ داری عائد کی جاتی ہے۔ بشیر نے جو اس وقت انڈونیشیا میں حراست میں ہیں، جمیعہ اسلامیہ سے کسی بھی تعلق سے انکار کیا ہے۔ پینسٹھ سالہ مذہبی رہنما اس ماہ کے آخر میں رہا ہونے والے تھے لیکن اب انڈونیشیا کی پولیس انہیں دہشت گردی کے تازہ الزامات پر مزید چھ ماہ حراست میں رکھ سکے گی۔ اٹارنی جنرل کے ترجمان کیماس یحیٰی کے مطابق جکارتہ کے پراسیکیوٹر آفس کو پولیس سے ابو بکر بشیر سے تحقیقات کے بارے میں چٹھی ملی ہے۔ اس ماہ کے شروع میں پولیس ذرائع نے کہا تھا کہ اسے مزید پوچھ گچھ کے لئے مختلف ذرائع سے تازہ معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ ان میں مبینہ طور پر جمیعہ اسلامیہ کے آپریشن کمانڈر ہنمبلی سے امریکہ کی تحقیقات سے حاصل معلومات بھی شامل ہیں۔ بشیر کو سن دو ہزار دو میں بالی میں ہونے والے بم دھماکوں کے فوراً بعد گرفتار کیا گیا تھا جن میں دو سو دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مسٹر بشیر پر کبھی بھی ان دھماکوں کا الزام نہیں لگایا گیا تھا لیکن ان پر جمیعہ اسلامیہ کے روحانی رہنما کے طور پر حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کرنے کا الزام تھا۔ مسٹر بشیر کو ستمبر دو ہزار تین میں بغاوت کے الزام سے عدم ثبوت کی وجہ سے بری کر دیا گیا تھا۔ لیکن بی بی سی کے جکارتہ میں نمائندہ راکیل ہاروے کا کہنا ہے کہ مغربی اور علاقائی خفیہ معلومات کے ماہرین کا اب بھی یہی خیال ہے کہ مسٹر بشیر کا جمیعہ اسلامیہ سے تعلق ہے۔ لیکن ابھی تک پولیس اور تحقیقاتی ادارے ان کا جمیعہ اسلامیہ سے کوئی بھی تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مسٹر بشیر خود بھی دہشت گردی سے کسی قسم کے تعلق سے انکار کرتے ہیں اور اپنے خلاف الزامات کو امریکی اور صیہونی سازش کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||