| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی ’منصوبہ ساز‘ کو سزائے موت
انڈونیشیا کی عدالت نے جزیرہ بالی بم حملوں کی منصوبہ بندی کی فردِ جرم عائد کرتے ہوئے علی غفران کو سزائے موت سنائی ہے۔ گزشتہ سال بالی میں ہونے والے بم دھماکوں کے ملزمان میں علی غفران آخری ملزم تھے۔ علی غفران ’مخلاص‘ کے نام سے بھی جانے جاتے تھے اور ممکنہ طور پر وہ بالی بم دھماکوں کی منصوبہ سازی میں سب سے اہم کردار تھے۔ گزشتہ برس جزیرہ بالی کے نائٹ کلبوں میں ہونے والے ان دھماکوں میں دو سو دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انڈونیشیا کی عدالت کے ججوں کا کہنا تھا کہ غفران پر عائد الزامات قانونی تھے اور واضح طور پر سچ ثابت ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ علی غفران فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت پانے کے مستحق ہیں۔ استغاثہ کا الزام تھا کے تینتالیس سالہ اسلامیات کے استاد علی غفران ان حملوں کی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد کے ہر طرح سے ذمہ دار تھے۔ اگرچہ غفران نے ان دھماکوں میں ملوث ہونے کا اعتراف تو کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان حملوں میں براہِ راست کردار ادا نہیں کیا۔ بالی میں بی بی سی کی نامی نگار ریچل ہاروی کا کہنا ہے کہ جب عدالت نے انہیں سزا سنائی تو وہ بالکل جذباتی نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی سزا کے خلاف اپیل کریں گے۔ نامہ نگار کے مطابق یہ ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہو سکتا ہے۔ مخلاص نے گزشتہ ماہ انڈونیشیا کی ایک عدالت کو بتایا تھا کہ وہ ’بڑی مچھلیوں‘ یعنی صدر بش، ایریئل شیرون اور ٹونی بلیئر کے مقابلے میں محض ایک ’چھوٹے موٹے‘ دہشتگرد ہیں۔ غفران کے علاوہ بالی حملوں کے تین دوسرے ملزمان پر بھی جرم ثابت ہوچکا ہے۔ ان حملوں کے جرم میں امام سمودرہ کے علاوہ مخلاص کے ایک بھائی امروزی کو بھی سزائے موت سنائی گئی ہے جبکہ مخلاص کے دوسرے بھائی علی عمران کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||