بالی بم دھماکے جائز تھے:سمدرا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی بم دھماکوں کے لیے قصوروار پائے جانے والے شخص نے اپنی آپ بیتی لکھی ہے جس میں اس نے ان حملوں میں اپنے کردار کو جائز قرار دیا ہے۔ امام سمدرا کے پبلشر نے بتایا کہ یہ آپ بیتی انہوں نے ان حملوں کے لئے اپنے خلاف سزائے موت کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد لکھی ہے ۔ ’میں دہشت گردوں سے لڑا‘ کے عنوان کی اس کتاب کی ابھی چند ہی جلدیں دستیاب ہیں لیکن جلد ہی اور جلدیں جاری کی جائیں گی۔ سمدرا کے پبلشر کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں بالی بم دھماکوں کی وجوہات کی وضاحت کی گئی ہے ۔ اور یہ بھی کہ انہوں نے اس طرح کی کارروائی ضروری کیوں سمجھی۔ کتاب میں یہ بھی بیان کیا گیا ہےکہ کس طرح انہوں نے 20 سال کی عمر میں اسلامی شدت پسند کی حیثیت سےافغانستان میں جنگ لڑی اور وہ کس طرح اپنی بیوی سے ملے ۔ سمدرا کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل ہے اور انہوں نے کمپیوٹر پر بھی ایک چیپٹر لکھا ہے جس کا عنوان ہے: ہیکنگ -- کیوں نہیں؟ روز نامہ انڈو پوز نے اپنے منگل کے ایڈیشن میں سمدرا کی اس کتاب کی تصویر شائع کی ہے جس میں سمدرا سر ٹوپی پہنے کھڑے ہیں پس منظر میں آگ کی لپٹیں ہیں اور وہ انگلی سے وارننگ کا اشارہ کر رہے ہیں۔ انڈو پوز نے سمدرا کے حوالے سے لکھا ہے کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ اس کتاب کی اسکرپٹ ہلال ہے کیونکہ اس کے لئے کاغذ اور روشنائی انہیں ایک مسلمان وکیل نے دی ہیں نہ کہ پولیس اور حکومت نے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کتاب سے ملنے والی رائلٹی ایک نا معلوم خیراتی ادارے کو جائے گی۔ فرانسیس خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ کتاب پہلے ہی اوسلو شہر میں فروحت ہو رہی ہے۔اور جلد ہی انڈونیشیا کے دوسرے علاقوں میں بھی دستیاب ہوگی۔ سمدرا کو 2003 میں ان حملوں کے لیے سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن سزا پر عمل درامد کے لیے ابھی تک کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔اور انہوں نے اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ اپنے مقدمے کی پوری سماعت کے دوران سمدرا نے کسی پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا اور ان حملوں کو جائز قرار دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||