BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 July, 2004, 20:04 GMT 01:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالی بم دھماکہ: غیر قانونی سزائیں؟
بالی
بالی بم دھماکے میں 200 سے زائد سیاح ہلاک ہوگئے تھے
انڈونیشیا کی ایک آئینی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ دہشت گردی کے جس قانون کے تحت بالی کے بم دھماکے میں ملوث افراد کو مجرم قرار دیا گیا تھا اس کا استعمال غیر قانونی تھا۔

یہ قاتون بالی کے نائٹ کلب میں دھماکے کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔ اکتوبر 2002 میں ہونے والے اس دھماکے میں 202 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں اکثر سیاح تھے۔ گرفتاری کے بعد میں دھماکے میں ملوث افراد پر اسی قانون کے تحت مقدمات کی پیروی کی گئی مگر اب عدالت کا کہنا ہے کہ اس قانون کو ماضی سے رو باعمل نہیں ہونا چاہیے تھا۔

جکارتہ میں بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت اب مجرمان میں سے ایک کی اپیل پر غور کر رہی ہے۔مصقور عبدالقادر کو دھماکے میں ملوث ہونے پر پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن اس کے وکلا کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ درست نہیں تھا اس لیے کہ قادر پر جس قانون کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا وہ واقعہ کے بعد عمل میں لایا گیا تھا۔

عدالت نے اس پر اتفاق کیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ ماضی سے نافذاعمل قانون ملک کے آئین کے منافی ہے۔

بظاہر اس فیصلے سے تمام تیس مجرموں کے لیے اپیلوں کی راہ ہموار ہو جائے گی مگر عدالت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ماضی سے رو باعمل نہیں ہوگا اس لیے اس سے مجرموں کی سزاؤں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مبصرین اسے ایک متنازع اورمبہم فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ بے شک دونوں طرف سے وکلا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے اس کی تمام باریکیوں پر غور کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد