بالی بم دھماکہ: غیر قانونی سزائیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کی ایک آئینی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ دہشت گردی کے جس قانون کے تحت بالی کے بم دھماکے میں ملوث افراد کو مجرم قرار دیا گیا تھا اس کا استعمال غیر قانونی تھا۔ یہ قاتون بالی کے نائٹ کلب میں دھماکے کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔ اکتوبر 2002 میں ہونے والے اس دھماکے میں 202 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں اکثر سیاح تھے۔ گرفتاری کے بعد میں دھماکے میں ملوث افراد پر اسی قانون کے تحت مقدمات کی پیروی کی گئی مگر اب عدالت کا کہنا ہے کہ اس قانون کو ماضی سے رو باعمل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ جکارتہ میں بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت اب مجرمان میں سے ایک کی اپیل پر غور کر رہی ہے۔مصقور عبدالقادر کو دھماکے میں ملوث ہونے پر پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن اس کے وکلا کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ درست نہیں تھا اس لیے کہ قادر پر جس قانون کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا وہ واقعہ کے بعد عمل میں لایا گیا تھا۔ عدالت نے اس پر اتفاق کیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ ماضی سے نافذاعمل قانون ملک کے آئین کے منافی ہے۔ بظاہر اس فیصلے سے تمام تیس مجرموں کے لیے اپیلوں کی راہ ہموار ہو جائے گی مگر عدالت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ماضی سے رو باعمل نہیں ہوگا اس لیے اس سے مجرموں کی سزاؤں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مبصرین اسے ایک متنازع اورمبہم فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ بے شک دونوں طرف سے وکلا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے اس کی تمام باریکیوں پر غور کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||