| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی دھماکہ: موت کی سزا
انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں ہونے والے بم دھماکے کے مجرم عبدالعزیز کو ایک عدالت نے موت کی سزا سنائی ہے۔ عبدالعزیز کو جو کہ امام سمودرہ کے نام سے جانے جاتے ہیں جب سزا سنانے کے لیے کمرہ عدالت میں لایا گیا تو انہوں نےہوا میں مکے لہراتے ہوئے اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔ بالی بم دھماکے میں دو سو بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں ایک بڑی تعداد آسٹریلیا اور مغربی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ اسی سال اگست میں بالی بم دھماکے میں ملوث ایک اور شخص امروزی کو بھی اسی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ عبدالعزیر سفید رنگ کی قمیض اور سیاہ ٹوپی میں ملبوس تھے اور مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔ جج جب ان کی سزا پڑھ کر سنا رہے تھے تو وہ اپنی دھاڑی میں ہاتھ پھیررہے تھے۔ عبدالعزیز پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ بالی بم دھماکے کی نگرانی کر رہے تھے اور انہوں نے ہی اپنے باقی ساتھیوں کو مختلف کام سونپے تھے۔ اپنی گرفتاری کے فوراً بعد انہوں نے پولیس کی تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا لیکن اس کے بعد انہوں نے اس سے انکار کر دیا۔ عدالت میں سماعت کے دوران انہوں نے امریکہ اور آسٹریلیا کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کے دھماکے میں امریکی اور آسٹریلوی باشندے بڑی تعداد میں مارے گئے۔ تاہم انہوں نے اڑتیس انڈونیشیا کے باشندوں کے مارے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ امام سامودرہ نے کہا کہ وہ موت کی سزا سنائے جانے پر خوش ہیں کیونکہ موت انھیں خدا کے قریب لیے جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |