انڈونیشیا میں چرچ پر حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا میں ایک گرجا گھر پر کیے گئے حملے میں ایک خاتون پادری ہلاک اور چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح افراد اتوار کی شام سنٹرل سلاویسی صوبے میں پالو کے علاقے میں واقع گرجا گھر میں داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کر دی جس سے انتیس سالہ خاتون پادری سوسیانتی ٹینولیلی موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں۔ وہ اس وقت وعظ دے رہی تھیں۔ چار میں سے ایک زخمی کی حالت بھی نازک بتائی جا رہی ہے۔ سنٹرل سلاویسی صوبے میں گزشتہ پانچ برس سے مسلمانوں اور عیسائیوں میں جاری کشیدگی کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ پوسو کے قریب ہوا جو حالیہ برسوں میں شدید مذہبی فسادات کی زد میں رہا ہے۔ یہاں واقع ایک چرچ پر اپریل میں کیے گئے حملے میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کی نیشنل پولیس کے چیف لائی بختیار پیر کی صبح پالو پہنچے تا کہ معاملے کی چھان بین کر سکیں۔ سیکیورٹی کے وزیر اعلیٰ ہری سوبرنو نے جکارتا میں کہا ہے کہ یہ حملہ علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ سنٹرل سلاویسی صوبے کی عیسائی برادری پر اس برس کیا گیا یہ پانچواں حملہ ہے۔ انڈونیشیا کے مسلمانوں اور عیسایوں میں دو ہزار ایک میں طے پانے والا امن معاہدہ فریقین کے درمیان جاری پرتشدد کارروائیوں کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||