BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈونیشیا میں چرچ پر حملہ
پانچ برس میں فرقہ وارانہ فسادات کے باعث 1000 افراد ہلاک ہوئے ہیں
پانچ برس میں فرقہ وارانہ فسادات کے باعث 1000 افراد ہلاک ہوئے ہیں
انڈونیشیا میں ایک گرجا گھر پر کیے گئے حملے میں ایک خاتون پادری ہلاک اور چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح افراد اتوار کی شام سنٹرل سلاویسی صوبے میں پالو کے علاقے میں واقع گرجا گھر میں داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کر دی جس سے انتیس سالہ خاتون پادری سوسیانتی ٹینولیلی موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں۔ وہ اس وقت وعظ دے رہی تھیں۔ چار میں سے ایک زخمی کی حالت بھی نازک بتائی جا رہی ہے۔

سنٹرل سلاویسی صوبے میں گزشتہ پانچ برس سے مسلمانوں اور عیسائیوں میں جاری کشیدگی کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ پوسو کے قریب ہوا جو حالیہ برسوں میں شدید مذہبی فسادات کی زد میں رہا ہے۔ یہاں واقع ایک چرچ پر اپریل میں کیے گئے حملے میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کی نیشنل پولیس کے چیف لائی بختیار پیر کی صبح پالو پہنچے تا کہ معاملے کی چھان بین کر سکیں۔

سیکیورٹی کے وزیر اعلیٰ ہری سوبرنو نے جکارتا میں کہا ہے کہ یہ حملہ علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کے لیے کیا گیا ہے۔

سنٹرل سلاویسی صوبے کی عیسائی برادری پر اس برس کیا گیا یہ پانچواں حملہ ہے۔

انڈونیشیا کے مسلمانوں اور عیسایوں میں دو ہزار ایک میں طے پانے والا امن معاہدہ فریقین کے درمیان جاری پرتشدد کارروائیوں کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد