انڈونیشیا:قتل عام کی ان کہی کہانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہلی بار پندرہ کروڑ انڈونیشیائی اپنے ملک کے صدر کا انتخاب براہ راست ووٹنگ کے ذریعے کریں گے۔ جمہوریت کی طرف اس پیش رفت میں انڈونیشیا کو سیاسی طور پر مشکل دور سے گزرنا پڑا ہے۔ جکارتہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کرسٹوفر گنس کا کہنا ہے کہ وہ بیس سال سے پروگرام بنا رہے ہیں لیکن انڈونیشیا کی موجودہ صورتحال کے بارے میں پروگرام بنانا اس لحاظ سے سب سے منفرد تجربہ تھا کہ انہوں نے جس سے بھی بات کی وہ ماضی کا ذکر کرتے ہوئے بے قابو ہو کر رونے لگا۔
وہ بیسویں صدی کا ایسا قتل عام تھا جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں اور اس سے بھی کم افراد نے اب تک اس کی تصدیق کی ہے۔ یہ تیس ستمبر انیس سو پینسٹھ کی رات کو ایک بغاوت کی کوشش سے شروع ہوا تھا۔ چھ جرنیلوں کو گھروں سے گھسیٹ کر نکالا گیا اور دارالحکومت جکارتہ کے باہر ہوائی اڈے کی طرف لے جایا گیا۔ جو اس وقت تک زندہ تھے ان کو تشدد کے بعد ہلاک کر کے ان کی لاشیں کنویں میں پھینک دی گئی تھیں۔ یہ انڈونیشیا میں جرنیلوں کے لئے ایک تاریک رات تھی، ایک جدید قوم کے لئے تاریخ کا فیصلہ کن موڑ تھا۔
یہ انڈونیشیا میں قتل و غارت کی ان کہی کہانی ہے۔ جرنیلوں کو کنویں کی تہہ میں اتارنے کے بعد باغیوں نے اقتدار پر قبضہ مکمل کرنے کےلئے اقدامات شروع کئے۔ اس وقت کے خصوصی افواج کے سربراہ جنرل سوہارتو ملک کے بننے والے آمر کے طور پر تیار تھے۔ انہوں نے باغیوں کو اپنی کارروائیاں بند کرنے کا حکم دیا اور سب رُک گیا۔ ایک دن کے اندر سب کام مکمل ہو چکا تھا۔ اس کے بعد قتل عام شروع ہوا۔ اس دور کی سب سے معروف وضاحت یہ ہے کہ صدر سوہارتو نے خود ہی یہ بات پھیلائی کہ ناکام بغاوت کمیونسٹوں کی کارروائی تھی۔ اس وقت چین اور سوویت یونین کے بعد کمیونسٹ سب سے زیادہ طاقتور انڈونیشیا میں تھا۔ فوج میں سوہارتو اور ان کے ہم خیال کمیونسٹوں کا ایسا ہی بندو بست چاہتے تھے جیسے ان کو مبینہ ناکام بغاوت کے بعد ٹھکانے لگایا گیا۔
ہمسائے ایک دوسرے پر ایسے پل پڑے جس کی مثال مشرق بعید کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ بالی میں سفید لباس میں ملبوس کمیونسٹوں کے خاموش مجمعوں کی پھانسی گھاٹ کی طرف مارچ کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی کہانیاں بھی سننے کو ملتی ہیں۔ اس سب کے ساتھ ساتھ شہروں اور قصبوں میں تعلیم یافتہ افراد کے خلاف بھی ایک لہر چلی ہوئی تھی۔ ہزاروں افراد کو گھروں سے نکال کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اٹھارہ ماہ کے اندر جنرل سوہارتو نے نہ صرف کمیونسٹ پارٹی کا خاتمہ کر دیا بلکہ انڈونیشیا کو آزادی دلانے والے صدر سوکارنو سے اقتدار بھی چھین لیا۔ اس کے بعد صدر سوہارتو کے بتیس سالہ دور کے دوران انڈونیشیا میں انیس سو پینسٹھ کے واقعات کے بارے میں کھلے عام بات کرنے پر پابندی تھی۔ اس امکان کا ذکر بھی جیل کا راستہ دکھا سکتا تھا کہ صدر سوہارتو کمیونسٹ پارٹی کے خلاف نفرت پھیلانے اور پھر اس کا قلع قمع کرنے میں ملوث تھے۔ اور یہ صرف اب بظاہر جمہوریت کی آمد کے بعد ممکن ہوا ہے کہ لوگ تکلیف دہ ماضی کا کھلے عام ذکر کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ آنسو چالیس سال تاخیر سے آئے ہیں۔ لیکن زباں بندی کی سازش میں سوہارتو اکیلے نہیں تھے۔ برطانیہ اور امریکہ بھی اس میں شامل تھے۔ انہیں اس بات کی خوشی تھی کہ اقتدار سوکارنو کے ہاتھ سے نکل گیا۔ سوکارنو سخت مغرب مخالف تھے اور انڈونیشیا اور چین کے درمیان قریبی روابط کے ذمہ دار تھے۔ اب تک اہم برطانوی دستاویز خفیہ ہیں۔ لیکن اس وقت جنرل سوہارتو کو برطانیہ اور امریکہ نے، اپنے ٹیکس گزاروں سے حاصل کردہ اربوں ڈالروں سے نوازا تھا، جن کے بارے میں ہمیں اب معلوم ہوا ہے کے خودر برد میں کھپ گئے۔ خاموشی مہنگی بھی پڑ سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||