BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 May, 2004, 13:50 GMT 18:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈونیشیا: پولیس سربراہ تبدیل
انڈونیشیا
ایمبون فسادات کے بعد پولیس پر اپنے طرزعمل کے حوالے سے بہت دباؤ تھا
انڈونیشیا میں جزائر ملوکا میں پولیس سربراہ کو دارالحکومت ایمبون میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد تبدیل کردیا گیا ہے۔ ان فسادات میں کم ازکم چھتیس لوگ مارے گئے تھے۔فسادات کا آغاز ایمبون میں علیحدگی پسند عیسائیوں کی جانب سے ایک ریلی کے انعقاد کے بعد ہوا تھا۔

ایمبون فسادات کے بعد پولیس پر اس کے طرزعمل کے حوالے سے بہت دباؤ تھا۔ شہر میں ایک چھوٹی سی ریلی مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان گلی گلی لڑائی میں بدل گئی تھی اور مبصرین پولیس پر تنقید کررہے ہیں کہ وہ تشدد کی پیش بندی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی اور اس کے آغاز کے بعد بھی وہ صورتحال کو قابو کرنے میں ناکام رہی۔

لیکن اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ پولیس سربراہ بریگیڈئیر جنرل بمبانگ سترسنو پر اس کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے اور ان کو عہدے سے ہٹا کردارالحکومت جکارتہ بلالیا گیا ہے۔ پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ مقامی افراد سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ جنرل سترسنو نے کاروائی میں تاخیر کی۔ اب حکومت یہ چاہتی ہے کہ جولائی میں صدارتی انتخابات سے پہلے صورتحال مکمل طور پر مستحکم ہو اور اس مقصد کے لیے ایک نئے فرد کی ضرورت ہے۔

فسادات کے بعد اب ایمبون میں خاصا سکون ہے اور پولیس ہتھیاروں کی تلاش میں گھرگھر تلاشی لے رہی ہے۔پولیس نے چونتیس مشتبہ علیحدگی پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں اس عیلحدگی پسند رہنما کی بیوی اور بیٹی بھی شامل ہیں جو خود امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔تاہم محسوس ایسا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ بھی جنرل سترسنو کے خلاف کاروائی روکنے کے لیے ناکافی تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد