میگاوتی کو سخت مقابلے کا سامنا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونشیا میں ہونے والے پہلے براہ راست صدارتی انتخابات میں پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ دنیا میں تیسرے بڑے جمہوری ملک میں اس سے پہلے صدر کا انتخاب پارلیمان کیا کرتی تھی۔ صدر کا براہ راست انتخاب کرنے کے لیے ملک میں پانچ لاکھ کے قریب پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں جن میں پندرھ کروڑ ووٹر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ انڈونشیا کی موجود صدر میگاوتی سیوکارنوپتری کے علاوہ چار اور امیدوار ان انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ میگاوتی کو اپنے ایک سابق وزیر سوسیلو بامبنگ کی طرف سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ان انتخابات میں انڈونشیا کی فوج کے سابق سربراہ بھی جن کو مشرقی تیمور میں جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزامات کا سامنا ہے حصہ لیے رہے ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق ان انتخابات میں قومی اور عوامی مسائل کے بجائے شخصیات پر زور دیا جا رہا ہے۔ میگاوتی کو تین سال قبل پارلیمنٹ نے صدر منتخب کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||