انڈونیشیا: صدارتی انتخاب ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشا میں چھ برس قبل بحال ہونے والی جمہوریت کے بعد ہونے والے پہلے براہ راست صدارتی انتخابات ختم ہو گئے ہیں۔ انتخابات کے دوران ملک بھر میں عارضی کیمپ تعمیر کیے گئے تھے تاکہ پندرہ کروڑ رجسٹرڈ ووٹر پانچ امیدواروں میں سے اپنا نمائندہ منتخب کر سکیں۔ انڈونیشیا کی موجودہ صدر میگاوتی سوکارنوپتری کو خصوصاً اپنی ہی حکومت کے ایک سابق وزیر سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ رائے عامہ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سوکارنوپتری اقتدار میں رہنے کے لیے سخت جد و جہد کر رہی ہیں۔
جکاراتا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق انڈونیشیا کے عوام کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ سوکارنوپتری اصلاحات متعارف کرانے کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہیں اور انہیں سکیورٹی کے سابق وزیر سوسیلو بمبانگ یدھیونا کی طرف سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ اگر حالیہ انتخابات کے پہلے مرحلے میں حصہ لینے والے پانچ امیدواروں میں سے کوئی بھی واضح اکثریت سے جیتنے میں کامیاب نہیں ہوتا تو ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں دو ممتاز امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر انتخابات کے عمل پر نگاہ رکھنے کی غرض سے انڈونیشیاء میں موجود ہیں۔ انہوں نے پیر کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ اب تک منظم اور پرامن طریقے سے انتخابات ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||