بشیر پر بم دھماکوں کا الزام عائد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے مذہبی رہنما ابو بکر بشیر پر سن 2003 میں جکارتہ میں ہونے والے بم دھماکے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس حملے کے وقت ابو بکر بشیر جیل میں تھے اور انہوں نے ہمیشہ ہی دہشتگردوں سے تعلقات کے الزامات کی تردید کی ہے۔ انہیں ماضی میں عسکریت پسندوں کے گروپ جمیعۃ الاسلامیہ سے بھی منسوب کیا جاتا رہا ہے۔ یہ وہ گروپ ہے جس پر 2002 کے بالی بم دھماکوں کا الزام ہے۔ تاہم استغاثہ کا کہنا ہے کہ چونکہ اس واقعے کے وقت دہشتگردی کے خلاف نیا قانون نہیں بنا تھا اس لئے ان پر الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ وکیل استغاثہ اینڈی ہرمن نے ابو بکر بشیر کے خلاف جنوبی جکارتہ کی ڈسٹرکٹ عدالت میں 65 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان پر جمیعۃ الاسلامیہ کی قیادت کرنے کا الزام بھی عائد کیا جائے گا یا نہیں۔ حکام کے مطابق توقع ہے کہ عدالتی کارروائی دو ہفتے کے بعد شروع کی جائے گی۔ ابو بکر کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے مخالف وکیل کا کیس اتنا مضبوط نہیں بنتا کیونکہ دھماکوں کے وقت ابو بر بشیر جیل میں تھے۔ ’لیکن پھر بھی میرے خیال میں ہم یہ کیس نہیں جیت سکیں گے۔ اور ابو بکر ہمیشہ جیل میں رہیں گے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||