BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 June, 2005, 00:52 GMT 05:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ میں ہندؤں کے مندر

مندر عبادت
برطانیہ کے ہندو مندروں میں بھی اشلوک اور بھجن فضا کو مسحور کرتے ہیں
برطانیہ میں تارکین وطن کے ریکارڈ کے مطابق جنوبی ایشیا سے بڑے پیمانے پر تارکین کی آمد انیس سو پچاس میں شروع ہوئی حالانکہ برٹش لائبریری کے ریکارڈ میں سولہ سو اٹھاسی میں برسٹل شہر کی ایک ایسی مثال بھی موجود ہے جب ایک انڈین ہندو نے اپنے گم شدہ بچے کی تلاش کے لیے 20 شلنگ کے انعام کا اشتہار جاری کیا تھاگویا سترھویں صدی میں بھی یہاں ہندؤں کی موجودگی کے اشارے ملتے ہیں۔

ہندوازم اسلام اور عیسائیت کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا مذہب ہے جس کے ماننے والوں کی دنیا بھر میں تعداد نو سو ملین سے زیادہ ہے جبکہ برطانیہ میں عیسائیت، اسلام اور یہودیت کے بعد ہندوازم چوتھا مقبول مذہب ہے اور یہاں اس کے پیروکاروں کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ بتائ جاتی ہے۔

 برطانیہ میں عیسائیت، اسلام اور یہودیت کے بعد ہندوازم چوتھا مقبول مذہب ہے اور یہاں اس کے پیروکاروں کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ بتائ جاتی ہے۔

ہندوؤں کی زیادہ تعداد لیسٹر کے علاوہ لندن میں ہیرو اور ویمبلے کے علاقوں میں قیام پزیر ہے اور انہی علاقوں میں انکے مندروں کی تعداد زیادہ ہے۔

انیس سو پچاس تک ہندؤں کی کسی بڑی عبادت گاہ کے بارے میں کہیں سے کوئ معلومات نہیں ملتیں تا ہم پچاس کے پہلے عشرے کے اواخر میں برطانیہ میں سوامی نرائن ہندو مشن کے قیام کا پتہ چلتا ہے جس نے انیس سو ترپن میں مندر بنانے کی باقاعدہ کوشش کا آغاز کیا اور پھر سترہ سال بعد چودہ جون انیس سو ستر میں لندن کے علاقے ازلنگٹن میں پہلا ہندو مندر ایک چرچ کو تبدیل کر کے تعمیر کیا گیا۔

News image
برطانیہ کا پہلا باقاعدہ مندر جو ایک چرچ کو تبدیل کر کے بنایا گیا

ستر کے عشرے میں ہی کینیا اور یوگنڈا سے بیدخل ہو کر بڑی تعداد میں ہندو برطانیہ آۓ اور اس طرح مندروں کی تعمیر میں بھی تیزی آئی اور پھر ہندؤں کے علاوہ جین، بودھوں اور ہرے کرشنا ہرے راما والوں نے بھی اپنے اپنے مندر تعمیر کیے۔

بھارت، سری لنکا، تھائ لینڈ اور نیپال سے باہر دنیا میں سب سے زیادہ مندر امریکہ میں ہیں جہاں ان کی تعداد چار سو سے زائد ہے جبکہ دوسرے نمبر پر برطانیہ ہے جہاں دو سو سے زیادہ مندر ہیں۔

برطانیہ میں سب سے زیادہ مندر لندن میں تیس اور اسکے بعد لیسٹر میں اٹھارہ ہیں۔آئر لینڈ میں بڑے مندر چار ویلز میں سات اور سکاٹ لینڈ میں چھ ہیں۔اسکے علاوہ برطانیہ بھر میں سری لنکا کے ہندؤں کے پچاس مندر اور ہرے راما ہرے کرشنا تحریک کے پچیس سے زائد مندر ہیں۔برطانیہ کے دیگر علاقے جہاں مندروں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے ان میں برمنگھم، بولٹن، کوونٹری، والسال اور بریڈ فورڈ شامل ہیں۔

بھارت سے باہر دنیا کا سب سے بڑا مندر ’سری سوامی نرائن مندر’ لندن کے علاقے نیسڈن میں ہے جسکا افتتاح بیس اگست انیس سو پچیانوے میں ہوا تھا۔

 پورے کمپلیکس کا رقبہ ایک لاکھ دو ہزار اٹھارہ مربع فٹ ہے بھارت میںپانچ ہزار سے زائد ماہر نقاش اور کندہ کاروں نے ماربل کے چھبیس ہزار سے زیادہ مختلف سائز کے ٹکڑے تیار کیے جنہیں یہاں لندن لا کر تین سال میں جوڑا گیا

سنگ مر مر سے بناۓ گۓ اس پورے کمپلیکس کا رقبہ ایک لاکھ دو ہزار اٹھارہ مربع فٹ ہے اور اس کا خواب یوگی جی مہاراج نے دیکھا جنہوں نے برطانیہ کا پہلا مندر تعمیر کروایا تھا۔

اسکی تعمیر میں لگ بھگ پانچ ہزار ٹن ماربل استعمال ہوا جسے بلغاریہ اور اٹلی سے ایک سو ساٹھ کنٹینروں میں انیس سو بیانوے سے چورانوے تک پہلے بھارت بھیجا گیا جہاں پانچ ہزار سے زائد ماہر نقاش اور کندہ کاروں نے اس ماربل کے چھبیس ہزار سے زیادہ مختلف سائز کے ٹکڑے تیار کیے جنہیں پھر لندن لایا گیا جہاں تین سال کے عرصے میں ان ٹکڑوں کو جوڑ کر یہ عظیم الشان مندر تعمیر کیا گیا جسے دیکھنے کے لیے دنیا کے کونے کونے سے لوگ یہاں آتے ہیں۔

انیس سو ترانوے سے پچانوے تک اس مندر سے ملحق دو ایکڑ سے زائد رقبے پر لکڑی کے کام کی منقش حویلی بنائ گئ جسکا اہم ترین حصہ عبادت کا وہ وسیع ہال ہے جس میں چار ہزار سے زیادہ لوگ بیک وقت عبادت کر سکتے ہیں۔

اس ہال میں کوئی ستون نہیں ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ایک سو سال کے عرصے میں بھارت سمیت کسی ملک میں لکڑی کے منقش کام کی اتنی بڑی حویلی نہیں بنائی گئ۔ اس لکڑی پر منقش کام بھی بھارت میں ایک سو ستر ماہر چوب کاروں نے گجرات، راجھستان، اتر پردیش اور مہا راشٹر میں کیا ہے۔

News image
نیسڈن کا سری سوامی نرائن مندر جسکی تعمیر میںپانچ ہزار ٹن ماربل استعمال ہوا

برطانیہ میں ہندؤں کے نو تعمیر شدہ مندر کا نام ’سری موروگان مندر’ ہے جسے تقریباً تین ملین پاؤنڈ کی لاگت سے مشرقی لندن میں مینر پارک کے علاقے میں بنایا گیا۔ سن دو ہزار میں اسکی تعمیر کا آغاز ہوا تھا اور انتیس مئی دو ہزار پانچ میں اسکا افتتاح ہوا ہے۔

اس مندر کے اندر تین مندر ہیں اور اس میں بھی استعمال کیا جانے والا ماربل اور گرینائٹ بھارت میں ہی پالش کیا گیا اور وہیں اس پر منقش کندہ کاری کر کے یہاں لندن لایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جنوبی ایشیا سے باہر یہ سب سے بڑا مندر ہے۔

49اختیار یا لالچ
فوجی پشاور کے قدیم مندر پر قبضہ چاہتے ہیں۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد