BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 June, 2006, 13:59 GMT 18:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امر ناتھ یاترا اور آلودگی

’بڑی تعداد میں یاتریوں کا جمع ہونا ماحولیاتی نظام پر بے انتہا دباؤ ڈالتا ہے‘
ہندو مذہب کی ’امرناتھ یاترا‘ کے سلسلے میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر اور بھارت کے دوسرے شہروں سے ہر سال لاکھوں عقیدت مند مقدس امرناتھ غار کی زیارت کے لیئے آتے ہیں لیکن اس یاترا کے نتیجے میں وادی کا ماحولیاتی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔

جموں و کشمیر ریاست کے ماحولیات کے کنٹرول بورڈ نے اپنی تازہ رپورٹ میں یاترا کے نتیجے میں پھیلنے والی ماحولیاتی آلودگی کا تفصیل سے ذکر کیا اور بعض چیزوں پر اس سلسلے میں پابندی لگانے کے لیئے چند سفارشات بھی پیش کی ہیں۔

اس دوران بڑی تعداد میں یاتریوں کا کشمیر آنا بھی تشویش کا باعث بن جاتا ہے۔ ماحولیاتی کنٹرول بورڈ کے چیئرمین ارشاد احمد خان رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ امر ناتھ یاترا کو ہندو مذہب میں ایک خاص مقام حاصل ہے لیکن ’یاتریوں کا ایک مختصر وقت میں بڑی تعداد میں کشمیر کی خوبصورت پہاڑیوں میں جمع ہونا یہاں کے ماحولیاتی نظام پر بے انتہا دباؤ ڈالتا ہے‘۔

یاترا کی وجہ سے صحت افزا مقام پہلگام سے بہتا ہوا دریاء لدّر کا پانی بھی آلودہ ہو جاتا ہے کیونکہ یاتری اس مقام پر ٹھہر کر دریا کنارے نہاتے ہیں، کپڑے اور برتن دھوتے ہیں اور رفع حاجت وغیرہ بھی کرتے ہیں۔

بورڈ کی تحقیق کے مطابق یاتریوں کے ذریعہ جمع ہونے والا کوڑا کرکٹ اور ہوٹلوں سے نکلنے والی گندگی، سب کچھ بالآخر دریاء لدّر میں شامل ہوجاتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گندگی کو غیر سائنسی طور پر ضائع کیا جاتا ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی میں نہ صرف اضافہ ہوتا ہے بلکہ کئی بیماریاں جیسے، ہیضہ ، ٹائیفائڈ، بخار اور وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

یاتری
یاتریوں کے نہانے سے دریاء لدّر کا پانی بھی آلودہ ہو جاتا ہے

رپورٹ کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ ’مستقبل میں یاتریوں کی تعداد میں کمی ہونی چاہیئے، پہلگام کے گردو نواح اور غار کے راستے تک پلاسٹک کے لفافوں کے استمعال پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیئے، سالڈ ویسٹ (یا ٹھوس کوڑے) کے آبی اور جنگل کے علاقوں کے نزدیک ضائع کرنے پر پابندی لگنی چاہیئے اور پہلگام کے دریاء لدّر کے کنارے کسی بھی صورت میں یاتریوں کو رفع حاجت کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے‘۔

رپورٹ نے سفارشات پر عمل کرانے کے لئے سخت قوانین مرتب کرنے کی بات بھی کی ہے۔

یاترا جون کے مہینے میں شروع ہوتی ہے اور اگست کے مہینے میں ختم ہوتی ہے۔

ریاست کے چیف سیکریٹری سی پھونسانگ نے حال ہی میں سری نگر میں اس سلسلے میں صحافیوں کو بتایا کہ حکومت شری امرناتھ جی شرائن بورڈ کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش میں ہے کہ سائنسی طرز عمل پر میونسپل سولڈ ویسٹ کو ضائع کیا جائے تاکہ ماحولیات کا ہر صورت میں تحفظ ہوسکے’ہم ماحولیاتی پاکیزگی کے بارے میں بڑے سنجیدہ ہیں‘۔

امرناتھ جی شرائن بورڈ کی قیادت ریاست کے گورنر ایس کے سنہا کرتے ہیں اور کئی مرتبہ شرائن بورڈ کے طریقہ کار کے معاملے پر حکمران اتحاد میں شامل جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور شرائن بورڈ کے مابین الفاظ کی جنگ چھڑی ہے ۔

یاتری
ہر سال لاکھوں عقیدت مند مقدس امرناتھ غار کی زیارت کے لیئے آتے ہیں

پی ڈی پی کے سرپرست اور سابق وزیر اعلٰی مفتی محمد سعید اور گورنر سنہا کے مابین گزشتہ برس بھی یاترا کی معیاد پر اختلافات ہوگئے تھے جس کے نتیجے میں گورنر اور وزیر اعلٰی کے تلخ بیانات سامنے آتے تھے۔

وادی میں شورش کی موجودگی میں یاترا کی سکیورٹی کا بھی مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ مرکزي داخلہ سکریٹری وی کے دگل گل نے گزشتہ 16 جون کو وادی کا دورہ کیا تھا ۔ یاترا کی سکیورٹی کے حوالے سے انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ تین برسوں سے مسلسل یاترا بغیر کسی ناخوشگوار واقعہ کے مکمل ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ’یاتری تو عقیدت کی وجہ سے آتے ہیں۔ ہمیں نہیں لگتا کہ کوئی ان پر حملہ کرے گا لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو ہماری سکیورٹی جوابی کارروائی کے لیئےتیار ہے۔

انہوں نے مجموعی سکیورٹی پر بھی اطمینان ظاہر کیا۔ لیکن یاترا سے متعلق سیاست ابھی جاری ہے۔

ہندوستان کی ارکان پارلیمان اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے شرائن بورڈ اور ان کی پارٹی کے مابین تازہ اختلافات کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ شرائن بورڈ کو ’وسیح اختیارات حاصل ہیں جس کی وجہ سے ان کا ناجائز استمعال ہوتا ہے‘ ۔

شرائن بورڈ نے اس سال مقامی مزدوروں، گھوڑے والوں اور یاترا پر اپنے روزگار کا انحصار کرنے والے افراد کو ایک مقررہ رقم شرائن بورڈ میں جمع کرنے کی ہدایت دی تھی جس پر محترمہ مفتی کافی ناراض ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’غریب مزدور دن میں ایک سو روپیہ مشکل سے کما پاتے ہیں اور اگر انہيں ایک مخصوص رقم شرائن بورڈ کو دینی ہوگی تو وہ کیا کریں گے‘۔

تازہ اختلافات کے پیش نظر شرائن بورڈ نے اخبارات میں ایک وضاحتی بیان شائع کروایا ہے جس میں پی ڈی پی پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ مقامی لوگوں اور شرائن بورڈ میں خوامخواہ دیوار کھڑی کرنا چاہتی ہیں۔

مذاہبی اقوامِ متحدہ
مذاہب کی اقوامِ متحدہ بنانے کی تجویز
نیسڈن برطانیہ: ہندؤں کے مندر
برطانیہ میں ہندؤں کے دو سو سے زائد مندر ہیں۔
برطانیہ میں گردوارے
ایشیائی’ساؤتھ آل‘ نہ آئیں تو سیر نامکمل
اسی بارے میں
برطانیہ میں مساجد
06 July, 2005 | آس پاس
برطانیہ کے چرچ
20 July, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد