BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 June, 2008, 07:35 GMT 12:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امرناتھ یاترا پر تنازعہ

فائل فوٹو
یاترا کے منتظم ادارہ’شری امرناتھ شرائن بورڑ‘ کے مطابق یہ یاترا امسال سولہ جون سے سولہ اگست تک جاری رہے گی
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے جنوب میں واقع ہندوؤں کے مقدس مقام امرناتھ گپھا کی یاترا ایک بار پھر تنازعہ کا باعث بن گئی ہے۔

یاترا کے منتظم ادارہ’شری امرناتھ شرائن بورڑ‘ کے مطابق یہ یاترا امسال سولہ جون سے سولہ اگست تک جاری رہے گی۔ لیکن یاترا کے رسمی طور پر شروع ہونے سے قبل ہی ہندنواز اور ہندمخالف سیاسی گروپوں نے یاترا کی طویل مدت کو الگ الگ استدلال کی بنیاد پر ’کشمیر مخالف‘ بتایا ہے۔

دو ماہ کی یاترا کا سلسلہ بورڑ نے زبردست سیاسی مزاحمت کے باوجود پچھلے سال سے شروع کیا، جس پر حکمران اتحاد کی اہم اکائی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ مفتی محمد سعید نے اعتراض بھی کیا۔

تاہم وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے اس معاملے میں گورنر کا ساتھ دے کر یاترا کی مدت میں توسیع کو یقینی بنایا۔ ان کا خیال ہے کہ یاترا کی مدت میں توسیع مقامی سیاحت کو فروغ دے گا۔

لیکن مختلف سماجی انجمنوں اور سیاسی گروپوں نے اس کی یہ کہہ کر مخالفت کی ہے کہ ’یاترا کو سیاسی عزائم کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

ماحولیاتی امور کے لیے مخصوص ریاستی قانون ساز اسمبلی کی ہاؤس کمیٹی نے گزشتہ روز ایک اجلاس میں دو ماہ کی امرناتھ یاترا کو ریاست کے ماحولیاتی توازن کے لیے ’زبردست خطرہ‘ قرار دیا۔

کمیٹی کے سربراہ اور پٹن حلقے کے رکن اسمبلی ڈاکٹر مصطفٰی کمال نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ تو ہندوشاستروں (مقدس کتابوں) کے خلاف ہے۔ یاترا کے بڑے پروہت مہنت دپیندر گِری بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ یاترا رکھشا بندھن کے دوران ہی اختتام کو پہنچنی چاہیئے۔ ہم نے بورڑ کو لِکھا ہے کہ یاترا کی مدت پھر سے پندرہ روز تک محدود کی جائے۔‘

مسٹر کمال کا مزید کہنا تھا کہ ہاؤس کمیٹی کے ممبران یاترا کی لمبی مدت کو ماحولیات کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔’جس علاقے میں امرناتھ گُپھا واقع ہے، وہاں قدرت کے نادر وسائل ہیں۔ پانی کے چشمے اور برفانی گلیشیئر ہیں۔ ماہرین نے وارننگ بھی دی ہے کہ حد سے زیادہ انسانی سرگرمی ان علاقوں کے گلیشئرز کو پھگلا کر شہری علاقوں میں سیلاب بپا کرسکتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ مہنت گِری نے پچھلے سال ایک پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا تھا کہ ’ایک خالص مذہبی سرگرمی کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘

علیحدگی پسند بھی اس یاترا کو ’سب سے بڑا خطرہ ‘ سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کا الزام ہے کہ اس مذہبی رسم کو سیاسی رنگ دے کر یہاں کے مسلم اکثریتی کردار کو زائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مختلف سماجی انجمنوں اور سیاسی گروپوں نے اس کی یہ کہہ کر مخالفت کی ہے کہ ’یاترا کو سیاسی عزائم کے لیے استعمال کیا جارہا ہے
علیٰحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے الگ الگ بیانات میں یاترا اور شرائن بورڑ کو’اسرائیلی طرز پر مسلم اکثریتی باشندوں کو بے دخل کرنے کی پالیسی‘ جتلایا اور اس کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔

جمعرات کو سینئیر علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یاترا کو کشمیریوں کے خلاف ’یاترا آپریشن ‘ قرار دے کر اس کے خلاف ایک مزاحمتی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

اس منصوبے کی رو سے مسٹر گیلانی کی سربراہی والی حریت کانفرنس سیمیناروں کا انعقاد اور احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کررہی ہے۔

انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’یہ تو براہ راست ایک آپریشن لگتا ہے۔ حکومت ہند کی وزارت اطلاعات و نشریات کی ویب سائٹ پر صاف صاف لکھا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کو کشمیر میں تعینات افواج کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے امرناتھ گپھا کی یاترا کرنی چاہیئے۔‘

انہوں نے کہا کہ پہلے سے ہی بھاری فوجی جماؤ کے باوجود بیس ہزار فوجیوں کو یاترا کی حفاظت پر مامور کیا گیا ہے۔

سن دوہزار میں کشمیر اسمبلی میں پاس کیے گئے ایک قانون کے مطابق جموں کے ویشنو دیوی مندر اور کشمیر کی امرناتھ گپھا کی یاترا کے سلسلے میں انتظامات اور دیکھ ریکھ کا کام دو الگ الگ بورڑ کرینگے جن کے مشترکہ منتظم ریاستی گورنر ہونگے۔

بورڑ کو یاترا کے مقامات کے ’اِرد گرد ‘ زمینیں حاصل کرنے اور تعمیراتی کام درست لینے کا بھی اختیار ہے۔

شرائن بورڑ کے ترجمان مدن منٹو کے مطابق یاترا کے شیڈیول پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔’یاترا اپنے وقت پر یعنی سولہ اگست کو اختتال پزیر ہوگی۔ پچھلے سال تین لاکھ یاتریوں نے پوتر گپھا کے درشن کیے اور اس سال پانچ لاکھ یاتریوں کے آنے کی توقع ہے۔‘

ہندو سادھو’شِو کہاں ہے؟‘
امرناتھ یاترا تنازعہ کا باعث بن گئی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد