امرناتھ یاترا پر تنازعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے جنوب میں واقع ہندوؤں کے مقدس مقام امرناتھ گپھا کی یاترا ایک بار پھر تنازعہ کا باعث بن گئی ہے۔ یاترا کے منتظم ادارہ’شری امرناتھ شرائن بورڑ‘ کے مطابق یہ یاترا امسال سولہ جون سے سولہ اگست تک جاری رہے گی۔ لیکن یاترا کے رسمی طور پر شروع ہونے سے قبل ہی ہندنواز اور ہندمخالف سیاسی گروپوں نے یاترا کی طویل مدت کو الگ الگ استدلال کی بنیاد پر ’کشمیر مخالف‘ بتایا ہے۔ دو ماہ کی یاترا کا سلسلہ بورڑ نے زبردست سیاسی مزاحمت کے باوجود پچھلے سال سے شروع کیا، جس پر حکمران اتحاد کی اہم اکائی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ مفتی محمد سعید نے اعتراض بھی کیا۔ تاہم وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے اس معاملے میں گورنر کا ساتھ دے کر یاترا کی مدت میں توسیع کو یقینی بنایا۔ ان کا خیال ہے کہ یاترا کی مدت میں توسیع مقامی سیاحت کو فروغ دے گا۔ لیکن مختلف سماجی انجمنوں اور سیاسی گروپوں نے اس کی یہ کہہ کر مخالفت کی ہے کہ ’یاترا کو سیاسی عزائم کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘ ماحولیاتی امور کے لیے مخصوص ریاستی قانون ساز اسمبلی کی ہاؤس کمیٹی نے گزشتہ روز ایک اجلاس میں دو ماہ کی امرناتھ یاترا کو ریاست کے ماحولیاتی توازن کے لیے ’زبردست خطرہ‘ قرار دیا۔ کمیٹی کے سربراہ اور پٹن حلقے کے رکن اسمبلی ڈاکٹر مصطفٰی کمال نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ تو ہندوشاستروں (مقدس کتابوں) کے خلاف ہے۔ یاترا کے بڑے پروہت مہنت دپیندر گِری بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ یاترا رکھشا بندھن کے دوران ہی اختتام کو پہنچنی چاہیئے۔ ہم نے بورڑ کو لِکھا ہے کہ یاترا کی مدت پھر سے پندرہ روز تک محدود کی جائے۔‘ مسٹر کمال کا مزید کہنا تھا کہ ہاؤس کمیٹی کے ممبران یاترا کی لمبی مدت کو ماحولیات کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔’جس علاقے میں امرناتھ گُپھا واقع ہے، وہاں قدرت کے نادر وسائل ہیں۔ پانی کے چشمے اور برفانی گلیشیئر ہیں۔ ماہرین نے وارننگ بھی دی ہے کہ حد سے زیادہ انسانی سرگرمی ان علاقوں کے گلیشئرز کو پھگلا کر شہری علاقوں میں سیلاب بپا کرسکتے ہیں۔‘ واضح رہے کہ مہنت گِری نے پچھلے سال ایک پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا تھا کہ ’ایک خالص مذہبی سرگرمی کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘ علیحدگی پسند بھی اس یاترا کو ’سب سے بڑا خطرہ ‘ سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کا الزام ہے کہ اس مذہبی رسم کو سیاسی رنگ دے کر یہاں کے مسلم اکثریتی کردار کو زائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جمعرات کو سینئیر علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یاترا کو کشمیریوں کے خلاف ’یاترا آپریشن ‘ قرار دے کر اس کے خلاف ایک مزاحمتی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کی رو سے مسٹر گیلانی کی سربراہی والی حریت کانفرنس سیمیناروں کا انعقاد اور احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کررہی ہے۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’یہ تو براہ راست ایک آپریشن لگتا ہے۔ حکومت ہند کی وزارت اطلاعات و نشریات کی ویب سائٹ پر صاف صاف لکھا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کو کشمیر میں تعینات افواج کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے امرناتھ گپھا کی یاترا کرنی چاہیئے۔‘ انہوں نے کہا کہ پہلے سے ہی بھاری فوجی جماؤ کے باوجود بیس ہزار فوجیوں کو یاترا کی حفاظت پر مامور کیا گیا ہے۔ سن دوہزار میں کشمیر اسمبلی میں پاس کیے گئے ایک قانون کے مطابق جموں کے ویشنو دیوی مندر اور کشمیر کی امرناتھ گپھا کی یاترا کے سلسلے میں انتظامات اور دیکھ ریکھ کا کام دو الگ الگ بورڑ کرینگے جن کے مشترکہ منتظم ریاستی گورنر ہونگے۔ بورڑ کو یاترا کے مقامات کے ’اِرد گرد ‘ زمینیں حاصل کرنے اور تعمیراتی کام درست لینے کا بھی اختیار ہے۔ شرائن بورڑ کے ترجمان مدن منٹو کے مطابق یاترا کے شیڈیول پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔’یاترا اپنے وقت پر یعنی سولہ اگست کو اختتال پزیر ہوگی۔ پچھلے سال تین لاکھ یاتریوں نے پوتر گپھا کے درشن کیے اور اس سال پانچ لاکھ یاتریوں کے آنے کی توقع ہے۔‘ |
اسی بارے میں یاتریوں پر بم حملہ، تیرہ زخمی21 July, 2007 | انڈیا شِیو لنگ اصلی ہے یا نقلی؟29 June, 2006 | انڈیا امرناتھ یاترا: ’شِو لنگم کہاں ہے؟‘19 June, 2006 | انڈیا جموں بس حادثہ، کم از کم 25 ہلاک18 June, 2006 | انڈیا کشمیر میں دستی بم کا حملہ12 June, 2006 | انڈیا کشمیر میں سیاحوں کی واپسی31 May, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||