کشمیر: زمینوں کے حصول سے تنازع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہندوؤں کی امرناتھ یاترا کے منتظم ادارہ شری امرناتھ شرائن بورڑ کی طرف سے زمینوں کا حصول سیاسی تنازعہ کا باعث بن گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جہاں یہ تنازعہ ہندنواز سیاسی جماعتوں کے درمیان مزید کشیدگی کا باعث بن رہا ہے وہیں اسی کے سبب پانچ سال سے نظریاتی ٹکراؤ میں اُلجھے علیحدگی پسند لیڈر ایک ہوگئے ہیں۔ مبصرین اس صورتحال کو ستمبر یا اکتوبر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے اہم سمجھ رہے ہیں۔ یہ تنازعہ دارصل گزشتہ ماہ اُس وقت شروع ہوا جب کشمیر کے جنوب میں پہاڑی سلسلے پر واقع ہندوؤں کے بھگوان شِو سے منسوب ایک غار’امرناتھ گپھا‘ کی سالانہ یاترا سے قبل ریاستی گورنر کی سربراہی میں کام کرنے والے امرناتھ شرائن بورڑ کی درخواست پر ریاستی کابینہ نے بال تل کے قریب آٹھ سو کنال اراضی بورڑ کو منتقل کردی۔ ریاست کی موجودہ مخلوط حکومت انڈین نیشنل کانگریس کی ریاستی شاخ، سابق ہندوستانی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی مقامی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور بعض آزاد اُمیدواروں پر مشتمل ہے۔ حکومت کی اہم رکن پی ڈی پی کا الزام ہے کہ کانگریس نے حالیہ دنوں اپنی مدت کار ختم کرنے والےگورنر ریٹائرڈ لیفٹینٹ جنرل ایس کے سنہا کے کہنے پر یاترا کی مدت پندرہ دن سے دو ماہ کردی اور یاترا کے منتظم ادارے امرناتھ شرائن بورڑ کو زمین بھی فراہم کی۔ لیکن کانگریس کا دعویٰ ہے کہ پی ڈی پی نے حکومتی اکائی کی حیثیت سے شرائن بورڑ کو اراضی منتقل کرنے کے کابینہ کے فیصلہ کی توثیق کی ہے اور اب یہ پارٹی اسمبلی انتخابات سے قبل محض سیاست کر رہی ہے۔
لیکن حالیہ دنوں میں پی ڈی پی کے سینئیر لیڈر اور ریاست کے نائب وزیراعلیٰ مظفر حسین بیگ نے انکشاف کیا کہ ’بورڑ کو زمین منتقل کرنے کے بارے میں کانگریس نے پی ڈی پی کو بلیک میل کیا اور انتہائی دباؤ کے تحت ہمیں زہر کا یہ پیالہ پینا پڑا۔‘ بعد ازاں انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں یہ استدلال پیش کیا کہ’زمین منتقل نہیں کی گئی بلکہ زمین کے استعمال کو بدلا گیا ہے، اور یہ زمین کبھی بھی واپس لی جاسکتی ہے۔‘ قابل ذکر ہے کہ پی ڈی پی کی طرف سے ریاست میں فوجی انخلا ء کی وجہ سے مخلوط حکومت کی اکائیوں میں جو تناؤ پیدا ہوا تھا وہ کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی اور ہندوستانی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی ذاتی مداخلت سے ختم ہوا تھا۔ اور پی ڈی پی فوجی انخلاء کا نعرہ خوشی خوشی بھُول جانے پر آمادہ ہو چکی تھی۔ لیکن امرناتھ یاترا کے حوالے سے گورنر سنہا کے فیصلے سے متعلق تنازعہ نے حکومتی ارکان میں پھر ایک بار دراڑ ڈال دی ہے، یہاں تک کہ ہفتے کو وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد کی طرف سے طلب کئے گئے کابینہ کے اجلاس کا پی ڈی پی نے بائیکاٹ کردیا، جس کے بعد اجلاس کو ملتوی کردیا گیا۔ حزب اختلاف نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی گو کہ دونوں علاقائی پارٹیاں ہیں اور دونوں کا کم وبیش یکساں سیاسی ایجنڈا ہے، لیکن وہ بھی اس تنازعہ کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف الفاط کی جنگ میں مصروف ہیں۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ سن دوہزار ایک میں امرناتھ یاترا کی دیکھ بھال کے لیے ایک متوازی ادارہ کا قیام عمل میں لانے کے لئے نیشنل کانفرنس نے قانون سازی کی اور ریاست میں ایک ’خطرناک دیو کو جنم دیا ہے‘ جس کے زہریلے دانت ہم سب کو زخمی کردینگے۔ اس کے ردعمل میں نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ شرائن بورڑ کا قیام کوئی غلط بات نہیں ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ’چلو یہ غلطی صحیح کہ ہم نے بورڑ بنایا ، لیکن سوال یہ کہ بورڑ کے نام زمین کس نے الاٹ کردی۔ اس کے لئے مفتی سعید کو عوام سے معافی مانگنی چاہیئے‘۔ مبصرین کا خیال ہے کہ کشمیر کی مسلم علاقائی پارٹیاں شرائن بورڑ کو ہدف بناتے ہوئے آنے والے انتخابات کے دوران مسلم جذبات کو اُبھارنے کی کوشش کرینگی، اور اس ضمن میں ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ’مسلم مخالف‘ ثابت کرنے کے لئے دونوں نے الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ہندنواز سیاسی کیمپ میں اِس ہلچل کے برعکس شرائن بورڑ کا تنازعہ پچھلے پانچ سال سے ایک طرح کی نظریاتی جنگ میں اُلجھی علیٰحدگی پسند قیادت کو ایک کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ |
اسی بارے میں امرناتھ یاترا، بھگڈر سے’تین ہلاک‘ 19 June, 2008 | انڈیا امرناتھ یاترا پر تنازعہ14 June, 2008 | انڈیا یاتریوں پر بم حملہ، تیرہ زخمی21 July, 2007 | انڈیا شِیو لنگ اصلی ہے یا نقلی؟29 June, 2006 | انڈیا امرناتھ یاترا: ’شِو لنگم کہاں ہے؟‘19 June, 2006 | انڈیا جموں بس حادثہ، کم از کم 25 ہلاک18 June, 2006 | انڈیا کشمیر میں دستی بم کا حملہ12 June, 2006 | انڈیا کشمیر میں سیاحوں کی واپسی31 May, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||