BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 June, 2008, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر:پرتشدد جھڑپیں، مظاہرین پر فائرنگ

فائل فوٹو
احتجاج کے دوران پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسوگیس کے گولے داغے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہندو شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے چھٹے روز سرینگر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیاں پُرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔

ان جھڑپوں میں لبریشن فرنٹ رہنما محمد یٰسین ملک سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے۔

اس دوران ہفتے کو مشتعل نوجوانوں نے سرینگر کے گھنٹہ گھر پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کے بعد اسے کئی مقامات پر سرکاری املاک پر لہرانا چاہا ،جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور اشک آور گیس کے گولے داغے ۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پائین شہر اور نواحی علاقوں میں مختلف مقامات پر پولیس نے مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لیے راست فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں کئی افراد زخمی ہوگئے جن میں سے کچھ کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

سرینگر اور پوری وادی میں پرتشدد مظاہروں کے درمیان پاکستان کے پانچ روزہ دورے سے لوٹے علیٰحدگی پسند رہنما میرواعظ عمرفاروق نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ’شرائن بورڑ کو آٹھ سو کنال اراضی کی منتقلی کا سرکاری حکم نامہ منسوخ کیے جانے تک احتجاج جاری رہے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ احتجاجی تحریک لوگوں یا کسی مخصوص سیاسی نظریئے کی حمایت میں نہیں بلکہ آزادانہ ایک اجتماعی سوچ کے ساتھ سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔’اگر حکومت نے فی الفور زمین کی منتقلی کا آرڈر واپس نہیں لیا تو حالات بے قابو ہوجائینگے۔‘

جھڑپوں میں لبریشن فرنٹ رہنما محمد یٰسین ملک سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے

واضح رہے پیر کی شام سے جاری ان احتجاجی مظاہروں میں اب تک ایک لڑکی سمیت چار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اس دوران پوری وادی میں عام زندگی ٹھپ ہے، اور سیاحوں کی بڑی تعداد واپس جارہی ہے۔ تاہم علیٰحدگی پسند قیادت نے اپنا یہ اعلان دہرایا ہے کہ موجودہ احتجاجی تحریک یاترا یا یاتریوں کے خلاف نہیں ہے۔

میرواعظ عمر، سید علی گیلانی اور محمد یٰسین ملک نے اپنے الگ الگ بیانات میں کہا ہے ’یاترا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہاں ڈیڑھ سو سال سے یاترا ہورہی ہے، اور مسلم آبادی یاتریوں کو تعاون دیتی رہی ہے۔ لیکن ہم لوگ زمین کی منتقلی کے خلاف ہیں، کیونکہ یہ عمل کشمیریوں کو اپنی زمینوں سے بے دخل کئے جانے کے عمل کا تاثر دیتا ہے۔‘

فائل فوٹویاترا پر پھر تنازعہ
سالانہ امرناتھ یاترا تنازعہ کا شکار
ہندو سادھو’شِو کہاں ہے؟‘
امرناتھ یاترا تنازعہ کا باعث بن گئی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد