BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 June, 2008, 07:14 GMT 12:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امرناتھ یاتراصوبائی حکومت کے حوالے

زائرین
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے زمین کے منتقلی کی منسوخی کے مطالبے پر اقتدار سے الگ ہو چکی ہے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں امرناتھ یاترا کے منتظم ادارے شری امرناتھ شرائین بورڈ کو زمین منتقلی کا معاملہ بظاہر ختم ہوتا ہوا دکھائي دے رہا ہے۔اطلاعات ہیں کہ یہ زمین محکمۂ جنگلات کو واپس کر دی جائے گی۔

واضح رہے کہ حکمراں اتحاد میں شامل پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی زمین کی منتقلی کا حکم نامہ منسوخ کرنے کے مطالبے پر سنیچر کو اقتدار سے الگ ہوگئی تھی۔ جس کے بعد غلام بنی آزاد کی حکومت اقلیت میں آگئی ہے۔

تاہم نئی پیش رفت کے تحت اتوار کو شرائین بورڈ کے صدر اور صوبے کے گورنر این ایم بوہرا نے وزیر اعلی غلام بنی آزاد کو ایک خط لکھ کر پوچھا ہے کہ آیا صوبائي حکومت امرناتھ یاترا پر آنے والے زائرین کی پوری ذمہ داری لے سکتی ہے۔

گورنر کے خط کے کے جواب ميں وزیر اعلی نے کہا کہ صوبائي حکومت اس ذمہ داری کو بخوبی نبھا سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ امرناتھ یاترا کے منتظم کی ذمہ داری سے شرائین بورڈ کو مبرا کردیا جائے گا۔ اور
اس طرح جب شرائین بورڈ کے پاس زائرین کی ذمہ داری نہيں ہوگي تو اسے زمین کی ضرروت نہيں رہ جائے گی۔

تین راستے
 ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی کے حکومت سے الگ ہونے کے بعد اب ریاست میں حکومت قائم رکھنے کی دو ہی صورتیں ہیں کہ یا تو گورنر غلام نبی آزاد کو طلب کر کے انہیں ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کو کہیں یا پھرانتخابات میں بہت کم وقت کے پیش نظر انہیں نگراں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کا حکم دیں۔ ایک تیسرا راستہ یہ ہے کہ وہ ریاست میں گورنر راج کی سفارش کریں
تجزیہ کاروں کی رائے ميں ایسے میں شرائین بورڈ کو منتقل کی گئی زمین محکمہ جنگلات کو واپس کر دی جائے گي۔ تاہم زمین منتقلی کی منسوخی کا باضابطہ حکم نامے میں وقت درکا رہے کیوں کہ اس کے لیے بعض کاغذی خانہ پوری کرنی پڑے گی۔

ادھر شرائین بورڈ کو زمین منتقلی کی مخالفت کررہے ’ایکشن کمیٹی ایگنسٹ لینڈ ٹرانسفر‘ کے سربراہ میاں عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ جت تک زمین کی واپسی باضابطہ طور پر نہیں کر دی جاتی ہے تب تک احتجاج جاری ر ہے گا۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ سات روز سے پوری وادی میں اراضی کی منتقلی سے متعلق سرکاری حکم نامے کی منسوخی کے حق میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک پانچ سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

غور طلب ہے کہ غلام بنی آزاد کی حکومت ایسے وقت ميں اقلیت میں آئي ہے جب اسمبلی کی مدتِ کار میں صرف ڈھائی ماہ باقی رہ گئے ہیں۔

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی کے حکومت سے الگ ہونے کے بعد اب ریاست میں حکومت قائم رکھنے کی دو ہی صورتیں ہیں کہ یا تو گورنر غلام نبی آزاد کو طلب کر کے انہیں ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کو کہیں یا پھرانتخابات میں بہت کم وقت کے پیش نظر انہیں نگراں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کا حکم دیں۔ ایک تیسرا راستہ یہ ہے کہ وہ ریاست میں گورنر راج کی سفارش کریں۔

زمین کی منتقلی کا یہ قضیہ چھبیس مئی کو اُس وقت سامنے آیا تھا جب صوبائی حکومت کے کابینہ اجلاس میں امرناتھ شرائن بورڑ کو آٹھ سو کنال زمین کی منتقلی کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔

فائل فوٹویاترا پر پھر تنازعہ
سالانہ امرناتھ یاترا تنازعہ کا شکار
ہندو سادھو’شِو کہاں ہے؟‘
امرناتھ یاترا تنازعہ کا باعث بن گئی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد