BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 July, 2008, 16:38 GMT 21:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: نوروزہ تحریک ، آگے کیا ہوگا؟

شرائن بورڈ کے خلاف تحریک نو دن چلی
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حکومت کی جانب سے ہندوشرائن بورڑ کے لئے آٹھ سو کنال زمین کی منتقلی کا حکمنامہ کالعدم ہوتے ہی نوروزہ پُرتشدد احتجاجی تحریک ختم ہوگئی ہے۔

تحریک کی نگرانی کررہی ایکشن کمیٹی نے منگل کی شام جب حکومتی فیصلہ کو ’عوام اور عوامی قربانیوں کی فتح‘ قرار دے کر عوام سے معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کی اپیل کی تو سرینگر اور دیگر اضلاع میں لوگوں نے پٹاخے چلائے۔

ایکشن کمیٹی نے عوام سے تحریک کی کامیابی پر شام کو چراغاں کرنے کی بھی اپیل کی، جس پر ہر بستی میں لوگوں نے عمل کیا۔

مبصرین کی اکثریت اس تحریک اور اس کے نتیجہ میں سامنے آچکے سرکاری فیصلہ کو مُسلح شورش کے بیس سالہ عرصہ کا سب سے معنی خیز واقع قرار دے رہے ہیں۔

نوجوان محقق اور کالم نگار ایم اے جاوید کا کہنا ہے کہ ،’ کشمیر میں مزاحمت سے متعلق بہت کچھ ہوتا آیا ہے، لیکن اس تحریک میں خالص جمہوری قوت کا ایسا مظاہرہ ہوا جو کبھی نہیں ہوا تھا۔ اور عوام کو یہ جیت ایک ایسے وقت ملی ہے جب عوامی طاقت کی بجائے عالمی حالات کو کشمیر تنازعہ کے حوالے سے زیادہ اہمیت دی جارہی تھی۔‘


یاد رہے کہ چھبیس مئی کو جب کانگریس اور پی ڈی پی کی قیادت والی مخلوط حکومت نے ہندوؤں کی امرناتھ یاترا، جو ہرسال پہلگام اور بال تل راستوں سے منعقد ہوتی ہے، کے منتظم ادارے کو بال تل میں آٹھ سو کنال زمین منتقل کردی تو پوری وادی میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔

تیئس جون سے یکم جولائی کی شام تک کل ملا کر ایک لڑکی سمیت چھہ افراد ہلاک اور تقریباً سات سو زخمی ہوگئے۔

نظریاتی طور پر ہندنواز اور ہند مخالف دھڑوں میں بٹی مقامی سیاست پر اس تحریک کا براہ راست اثر پڑا۔ جہاں پچھلے ساڑھے پانچ سال سے متوازی طور سرگرم علیٰحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کے دو دھڑے متحد ہوگئے، وہیں ساڑھے پانچ سال سے زیراقتدار کانگریس اور پی ڈی پی کا حکمراں اتحاد ٹوٹ گیا، کیونکہ حکم نامہ کی منسوخی کے مطالبے کی بنا پر پی ڈی پی کانگریس کی قیادت میں قائم مخلوط حکومت سے الگ ہوگئی۔

یہ صورتحال تین ماہ بعد ہونیوالے اسمبلی انتخابات پر براہ راست اثر انداز ہوسکتی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حریت کے درمیان الیکشن بائیکاٹ مہم چلانے کے تعلق سے اختلاف تھا، لیکن زمین کے لئے مشترکہ جدوجہد کے بعد اب یہ اختلاف ختم ہوگیا ہے۔

قانون کی طالبہ تابندہ خان کہتی ہیں: ’ابھی چند ماہ تک ہم لوگ بحث کررہے تھے کہ حُریت والوں کو اکتوبر میں ہونیوالے الیکشن میں حصہ لینا چاہیئے، لیکن جس انداز سے عوام نے ہر گلی، ہر کوچہ اور ہر گاؤں میں مزاحمت کا مظاہرہ کیا، اس سے لگتا ہے کہ وہ تھیوری ارریلونٹ (غیر متعلق) ہوگئی ہے۔ اب لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ جو لوگ ان سے بہبودی اور خوشحالی کےلئے ووٹ مانگتے ہیں، وہ ان کی سب سے عزیز شے یعنی ان کی زمین تک ہندوستان کے نام لکھ دینے میں گریز نہیں کرتے۔ ہند نواز سیاستدانوں کے لئے اس سال کا الیکشن اب کوئی آسان کھیل نہیں۔اب تو بحث یہ ہے آیا الیکشن کے کوئی معنی ہیں بھی یا نہیں۔‘

بھاری تعداد میں فوج کی تعیناتی اور کئی سال سے اجتماعی احتجاج کا سلسلہ منقطع رہنے کے باوجود کشمیری عوام اس شدت کے ساتھ کیسے متحرک ہوگئے؟ اس بارے میں مختلف لوگ مختلف آراء رکھتے ہیں۔

معروف علیٰحدگی پسند رہنما محمد اعظم انقلابی کہتے ہیں، ’لوگوں پر ظلم ہورہا تھا، اور لوگ سہہ رہے تھے۔ لینڈ ٹرانسفر (زمین کی منتقلی) تو ایک بہانہ تھا، کہ لوگ سڑکوں پر آئے اور اپنے جذبات کا مظاہرہ کیا۔ یہ صرف آٹھ سو کنال کا ہی مسئلہ نہ تھا، بلکہ اس عمل سے یہاں کی اکثریتی آبادی کے خلاف ایک سازش کا تاثر ملتا تھا، جس کا اعتراف خود ہندنواز لیڈر عمرعبداللہ بھی کرچکے ہیں۔‘

لیکن خاتون وکیل تابندہ اس سلسلے میں پاکستان کی وکلاء تحریک کو بھی اہم محرک سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’لوگوں نے جب پاکستان میں جمہوریت کے لئے وکلاء کی تحریک کو کامیاب ہوتے ہوئے دیکھا تو ان میں اعتماد پیدا ہوا کہ وہ بھی عدم تشدد اور جمہوریت کے اصولوں پر مبنی ایک تحریک چلا کر اپنا مطالبہ منوا سکتے ہیں۔ شائد اسی وجہ سے یہاں پاکستانی ٹی وی چینلز پر پابندی عائد کی گئی۔‘

قابل ذکر ہے کہ پچھلے چند سال میں کئی مطالبات کو منوانے کے لیے یہاں تحریکیں چلیں لیکن یہ پہلا واقع ہے کہ کسی مطالبہ پر چلی احتجاجی تحریک منطقی انجام تک پہنچی ہو۔ دو ہزار چھہ میں نابالغ کشمیری لڑکیوں کے جنسی استحصال کے خلاف ایک عوامی تحریک چلائی گئی، لیکن ایک جج، ایک ڈی آئی جی اور کئی سرکردہ سیاستدانوں و افسروں کی گرفتاری کے باوجود اس تحریک کو ناکام قرار دیا گیا، کیونکہ یہ معاملہ عدالتی طوالت کا شکار ہوکر رہ گیا۔ اس کے بعد دو ہزار سات میں وادی میں فرضی جھڑپوں میں معصوم نوجوانوں کو ہلاک کرکے انہیں غیر ملکی عسکریت پسند قرار دینے کا سکینڈل فاش ہوگیا اور پوری وادی میں جلسے اور جلوس منعقد ہوئے۔ لیکن کئی پولیس افسروں کی گرفتاری کے باوجود عوامی سطح پر ’جیت‘ کا تاثر معدوم تھا۔

مبصرین کہتے ہیں کہ یہ پہلا موقعہ ہے جب حکومت نے عوامی مطالبہ کو کسی کمیٹی کی نذر کرنے کی بجائے براہ راست اس پر عمل کیا۔ سنجیدہ حلقوں میں اس تحریک کی کامیابی کے حوالے سے دو تاثرات پائے جاتے ہیں۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ ’مسلح شورش کمزور پڑجانے کے بعد علیحدگی پسند تحریک جمود کا شکار ہوگئ تھی، لیکن اب اس میں جان آئے گی اور ہندنوازوں کو عوامی اعتماد بحال کرنے میں کافی وقت درکار ہوگا۔ کیونکہ اس جیت سے مقامی لوگوں میں عدم تشدد کی تحریک پر اعتماد بڑھ گیا ہے۔‘

تاہم بعض دیگر حلقوں کا خیال ہے کہ، ’حکومت ہند کے کسی عمل کو پہلی بار عوامی قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ امن کوششوں کے حوالے سے جو بھی قدم خالصتاً عوام کے اجتماعی مفاد کو مدنظر رکھ کر اٹھایا جائے گا، وہ قبولیت پائے گا۔‘

کشمیر میں زمین کی متنازعہ منتقلی تصاویر میں
کشمیر میں زمین کی متنازعہ منتقلی، احتجاج
فائل فوٹوکشمیر احتجاج
شرائن بورڈ زمین کی منتقلی پر ہنگامہ کیوں؟
کشمیر: زمین کی منتقلی، لوگ کیا کہتے ہیں’ہماری زمین لی ہے‘
کشمیر: زمین کی منتقلی، لوگ کیا کہتے ہیں
کشمیر: احتجاج آٹھویں روز بھی جاریاحتجاج جاری
کشمیر: زمین کی منتقلی، آٹھویں روز بھی مظاہرے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد