احتجاج آٹھویں روز بھی جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں آٹھویں روز بھی ہزاروں افراد نے امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا۔ ریاستی حکومت کی طرف سے زمین کی منتقلی کے فیصلے کو واپس لینے کے اعلان کے باوجود لوگوں نے بہت بڑی تعداد میں احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا۔ ادھر اس فیصلے کے خلاف بعض ہندو نظریاتی تنظیموں سمیت کچھ سماجی تنظیموں نے ہندو اکثریتی صوبہ جموں میں ہڑتال کی اور جلوس نکالے۔ کشمیر میں ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں میں اب تک چار افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں کے دوران ہونے والے یہ سب سے بڑے مظاہرے ہیں اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ زمین کی منتقلی کے خلاف شروع ہونے والی تحریک اب کشمیر کی آزادی کی تحریک میں بدلتی نظر آ رہی ہے۔ سرینگر میں بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کے مطابق وادی میں پیر کو بھی دکانیں، بینک، سکول اور دیگر سرکاری دفاتر بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔ سرحدی شہر بارامُلہ میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ سرینگر میں علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی نے پرانے شہر میں ایک بہت بڑے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی۔ اسی دوران جموں صوبے کے ہندو اکثریتی علاقوں میں بی جے پی کی کال پر ہڑتال کی گئی۔ بی جے پی کے ساتھ ساتھ شِو سینا اور وشوو ہندو پریشد جیسی دیگر سخت گیر ہندو جماعتوں کے ارکان نے جموں کشمیر کے نئے گورنر این این ووہرا اور وزیر اعلی غلام نبی آزاد کے خلاف نعرہ بازی کی۔
جموں میں مظاہرین نے ریاستی حکومت پر ’اسلامی انتہا پسندوں کے سامنے سر جھکانے‘ کا الزام لگایا۔ جموں میں بی بی سی کی نامہ نگار بینو جوشی کا کہنا ہےکہ شہر میں کاروبار بند اور ٹریفک معطل ہے۔ اتوار کو ریاستی حکومت نے امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین منتقل کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ امرناتھ یاترا کے لیے آنے والے زائرین کو تمام سہولیات خود حکومت فراہم کرے گی۔ اس سے پہلے حکومت کا موقف تھا کہ یہ زمین زائیرین کے لیے پہلے سے تیار کردہ جھونپڑیاں اور بیت الخلا بنانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ علیحدگی پسند تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ ’کشمیر میں غیر کشمیری ہندؤوں کو بسا کر یہاں کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔‘ مقامی ماہرین ماحولیات نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی تھی۔ زمین کی منتقلی کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونے والے یہ مظاہرے لوگوں کو اُنیس سو نوے کی یاد دلا رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں زمین کی واپسی پر ہندؤوں کا احتجاج30 June, 2008 | انڈیا امرناتھ یاتراصوبائی حکومت کے حوالے29 June, 2008 | انڈیا کشمیر:پرتشدد جھڑپیں، مظاہرین پر فائرنگ28 June, 2008 | انڈیا کشمیر میں حُکمراں اتحاد ٹوٹ گیا 28 June, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||