زمین کی واپسی پر ہندؤوں کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں امرناتھا شرائن بورڈ کو دی گئی زمین کی واپسی کی پیشکش کی مخالفت میں بعض ہندو نظریاتی تنظیموں سمیت کئی سماجی تنظیموں نے جموں میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ہڑتال کا اعلان ہندو نظریاتی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت ریاست کی کئی ہندو نواز سیاسی و سماجی تنظیموں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، شوسینا اور پینتھرس پارٹی کی جانب سے کیا گیا ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے سے جاری احتجاج کے بعد اتوار کو امرناتھ شرائین بورڈ نے وہ زمین واپس کرنے کی پیش کش کی تھی جسے ریاسی حکومت نے انہیں دیا تھا۔ ریاست میں کئی سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں جنگلات کی زمین کو شرائن بورڈ کے نام کیے جانے کی مخالفت کر رہے تھے۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ کانگریس کی سربراہی والی ریاست کی مخلوط حکومت سے اہم اتحادی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یعنی پی ڈی پی نے حمایت واپس لے لیا۔ حالانکہ ریاست کے وزير اعلی غلام نبی آزاد نے دعوی کیا ہے کہ وہ اسبملی میں اپنی اکثریت ثابت کر يں گے ۔ زمین واپس کرنے کی پیشکش کی مخالفت کرنے والی تنظیموں نے گورنر پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ریاست کے مسلم سخت گیروں کے آگے اپنے گٹھنے ٹیک دیے ہیں۔
زمین واپی کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی تازہ پیشکش کی نفاذ ہوتے ہی امرناتھ شرائین بورڈ کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔ جو مایوس کن قدم ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اصولوں کے مطابق گورنر کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی سطح پر ہی زمین واپسی کا فیصلہ لے لیں۔ اس کے لیے قانون موجود ہے اور اس سے بھی قبل بورڈ کے ممبرز کے ساتھ مل کر بات چیت ہونی چاہیے تھی۔ یہ تنازعہ دارصل گزشتہ ماہ اُس وقت شروع ہوا جب کشمیر کے جنوب میں پہاڑی سلسلے پر واقع ہندوؤں کے بھگوان شِو سے منسوب ایک غار’امرناتھ گپھا‘ کی سالانہ یاترا سے قبل ریاستی گورنر کی سربراہی میں کام کرنے والے امرناتھ شرائن بورڑ کی درخواست پر ریاستی کابینہ نے بال تل کے قریب آٹھ سو کنال اراضی بورڑ کو منتقل کردی۔ زمین کی منتقلی کے خلاف پوری وادی میں کئی روز تک پرتشدد مظاہرے ہوئے اور پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان جھٹپوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ اس دوران کشمیر میں عام زندگی ٹھپ رہی اور مقامی انتظامیہ مفلوج ہوکر رہ گئی۔ تعلیمی، کاروباری اور سرکاری ادارے بند رہے اور زندگی کا سارا نظام معطل ہوکر رہ گیا ہے۔ زمین منتقلی کی واپسی کی پیش کش کے بعد بھی ابھی وادی میں زندگی پوری طرح معمول پر نہیں آئی ہے۔ |
اسی بارے میں کشمیر:امرناتھ یاترا قضیہ بظاہر ختم 29 June, 2008 | انڈیا امرناتھ یاتراصوبائی حکومت کے حوالے29 June, 2008 | انڈیا کشمیر میں حُکمراں اتحاد ٹوٹ گیا 28 June, 2008 | انڈیا کشمیر:پرتشدد جھڑپیں، مظاہرین پر فائرنگ28 June, 2008 | انڈیا ’یاترا کا انتظام مقامی پنڈت کریں‘23 June, 2008 | انڈیا کشمیر: زمینوں کے حصول سے تنازع 22 June, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||