کشمیر:امرناتھ یاترا قضیہ بظاہر ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں امرناتھ یاترا کے منتظم ادارے شری امرناتھ شرائین بورڈ کو زمین منتقلی کا معاملہ بظاہر ختم ہوگیا ہے اور بورڈ نے یہ زمین محکمۂ جنگلات کو واپس کر نے کی پیش کش کی ہے۔ دوسری جانب ریاست کے وزير اعلی غلام بنی آزاد نے اتوار کو سرینگر میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ابھی تک شرائین بورڈ کو باضباطہ طور طور زمین منتقل نہيں کی جاسکتی تھی اور نہ ہی بورڈ نے اس کے پیسے دیے تھے۔’دراصل کابینہ کے فیصلہ کا کبھی نفاذ ہوہی نہیں سکا تھا اور جب کابینہ کی میٹنگ ہوگی تو زمین منتقلی کی منسوخی کا فیصلہ باضابطہ طور پر کیا جائے گا۔‘ تاہم وزیر اعلی غلام بنی آزاد نے شرائین بورڈ کے تحلیل کیے جانے کا سختی سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شرائین بورڈ کا وجود باقی ہے اور اب اس کا کام صرف امرناتھ گپھا میں پوجاپاٹھ تک محدود رہے گا۔ وزیر اعلی کے مطابق جمعہ کو گورنر این این بھورا نے صوبائي حکومت سے ایک تحریری خط لکھ کر پوچھا تھا کہ آیا حکومت امرناتھ یاتری کی کا مکمل انتظام کر سکتی ہے تو جس پر انہوں نے فوری آمادگی کا اظہار کیا۔ تاہم حکومتی اقدامات کے باوجود وادی میں کشیدگی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے اور تشدد کے امکانات کے پیش نظر شہری علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ علیحدگی پسند رہنماؤں اور شرائین بورڈ کو زمین منتقلی کی مخالفت کر رہے ایکشن کمیٹی ایگینسٹ لینڈ ٹرانسفر یا ’اکالٹ‘ نے اس اعلان کو ’بھونڈا مذاق‘ قرار دیتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کو پوری وادی میں جاری یہ احتجاجی تحریک ساتویں روز میں داخل ہوگئی۔ آج صبح کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان دوبارہ جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد سرینگر شہر میں بغیر اعلان کے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ واضح رہے شرائن بورڑ کو زمینوں کی منتقلی کے مطالبے پر حکمراں اتحاد ہفتے کو اُس وقت ٹوٹ گیا تھا جب حکومت میں کانگریس کی شریک جماعت پی ڈی پی اقتدار سے الگ ہوگئی۔ اس دوران علیحدگی پسند رہنما میرواعظ عمر فاروق نے زمین کی منتقلی کا باضابطہ حکمنامہ منسوخ کیے جانے تک احتجاج جاری رہنے کا اعلان کیا ہے۔ اور اتورا کو انہوں نے جلوس نکالے جس میں میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور وہ پاکستان، اسلام اور آزادی کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ واضح رہے کہ ایک ہفتے سے کشمیر میں عام زندگی ٹھپ ہے اور مقامی انتظامیہ مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ تعلیمی، کاروباری اور سرکاری ادارے بند ہیں اور زندگی کا سارا نظام معطل ہوکر رہ گیا ہے۔ یاد رہے مذکورہ احتجاجی تحریک میں ابھی تک ایک لڑکی سمیت چار افراد ہلاک اور چھہ سو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ |
اسی بارے میں امرناتھ یاتراصوبائی حکومت کے حوالے29 June, 2008 | انڈیا کشمیر میں حُکمراں اتحاد ٹوٹ گیا 28 June, 2008 | انڈیا کشمیر:پرتشدد جھڑپیں، مظاہرین پر فائرنگ28 June, 2008 | انڈیا ’یاترا کا انتظام مقامی پنڈت کریں‘23 June, 2008 | انڈیا کشمیر: زمینوں کے حصول سے تنازع 22 June, 2008 | انڈیا امرناتھ یاترا پر تنازعہ14 June, 2008 | انڈیا یاتریوں پر بم حملہ، تیرہ زخمی21 July, 2007 | انڈیا شِیو لنگ اصلی ہے یا نقلی؟29 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||