شرائن بورڈ تنازعہ، وزیراعلٰی مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین کی الاٹمنٹ پر دو ہفتوں کی کشیدگی اور غیر یقینی سیاسی صورتحال کے بعد ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں مخلوط حکومت کے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ صوبائی گورنر نے ان کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے اور وہ اگلا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے بھارتی حکومت سے رابطے میں ہیں۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہےکہ اسمبلی انتخابات میں صرف چار ماہ رہ جانے کی وجہ سے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ تاہم راج بھون کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ’گورنر نے وزیراعلٰی کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے فی الحال انہیں چند روز کے لیے نگران وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کو کہا ہے‘۔ واضح رہے کہ کشمیر حکومت کی اہم حمایتی جماعت پی ڈی پی کی جانب سے ہندو شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی پر حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد گورنر نے وزیراعلٰی غلام نبی آزاد کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے سات جولائی تک کی مہلت دی تھی۔ تاہم وزیراعلیٰ نے پیر کو 87 رُکنی کشمیر اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے تحریک جاری کرنے کی بجائے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ ایوان میں قریباً اسّی منٹ کی جذباتی تقریر کے اختتام پر غلام نبی آزاد نے کہا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ اپوزیشن اور ہمارے پرانے ساتھیوں میں سے بہت سے لوگ دِل سے مجھے ووٹ دینا چاہتے ہیں، لیکن ان کی پارٹی کی مجبوریاں ہیں۔ میں انہیں مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ لہٰذا میں اعتماد کی تحریک کو واپس لے رہا ہوں اور مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں‘۔ کشمیر میں سال دو ہزار دو کے انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے کانگریس، پی ڈی پی اور دیگر جماعتوں نے مخلوط حکومت بنائی تھی جبکہ ایوان میں اُبھرنے والی سب سے بڑی پارٹی نے حزب اختلاف میں رہنے کا اعلان کیا تھا۔ صوبے میں حزب اختلاف کی جماعت نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے اپنے اپنے ارکان اسمبلی کو اعتماد کی تحریک کے دوران غلام نبی آزاد حکومت کے خلاف ووٹ دینے کی ہدایت جاری کی تھی۔ واضح رہے کہ پہلے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ کانگریس کے حق میں بعض ممبران غیر حاضر رہ سکتے ہيں اور اس طرح حکومت اپنی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ صوبے میں اکتوبر میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہيں اور کشمیر کی موجودہ اسمبلی میں کسی بھی جماعت کو اکثریت حاصل نہيں ہے۔ یہ اسمبلی کُل 87 ارکان پر مشتمل ہے، جس میں حزب اختلاف نیشنل کانفرنس 24 ارکان کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے۔ کانگریس کے پاس 21 ارکان اور پی ڈی پی کے پاس 17 ارکان ہيں جبکہ 22 سیٹیں دیگر جماعتوں کے پاس ہیں۔ ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے غلام نبی آزاد کو 44 ارکان کی حمایت درکار تھی جبکہ انہیں اپنے 21 ارکان، پندرہ آزاد اُمیدواروں اور بعض دیگر چھوٹی پارٹیوں سمیت اڑتیس ارکان کی حمایت حاصل تھی۔ | اسی بارے میں ’ اعتماد کا ووٹ سات جولائی تک‘06 July, 2008 | انڈیا کشمیر میں حُکمراں اتحاد ٹوٹ گیا 28 June, 2008 | انڈیا کشمیر:پرتشدد جھڑپیں، مظاہرین پر فائرنگ28 June, 2008 | انڈیا ’یاترا کا انتظام مقامی پنڈت کریں‘23 June, 2008 | انڈیا کشمیر: زمینوں کے حصول سے تنازع 22 June, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||