BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 July, 2008, 10:10 GMT 15:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ اعتماد کا ووٹ سات جولائی تک‘

غلام بنی آزاد
غلام بنی آزاد کو اڑتیس ارکان کی حمایت حاصل ہے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں زیر اقتدار اتحادی حکومت سے پی ڈی پی کی علیحدگی کے بعد گورنر نے کانگریس سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد کو صوبائی اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے سات جولائی تک کی مہلت دی ہے۔

پچھلے ہفتے امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی کے معاملے پر حکومت میں کانگریس کی شریک پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اقتدار سے الگ ہوگئی تھی۔

دو نامزد ارکان سمیت کشمیر اسمبلی کُل نواسی ممبران پر مشتمل ہے، جس میں حزب اختلاف کے سب سے زیادہ یعنی چوبیس ممبران ہیں۔ 15 آزاد اُمیدواروں کے علاوہ حکمران کانگریس کے پاس 21، پی ڈی پی کے پاس 17 بی ایس پی ،بی جے پی اور جموں مکتی مورچہ کے پاس ایک ایک نشست ہے جبکہ نیشنل پینتھرس پارٹی کے 4 اور کمیونسٹ پارٹی کے 2 ممبران ہیں۔

نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے ہفتے کو اپنے اپنے ارکان اسمبلی کے نام تاکیدی ہدایات (وِہپ) جاری کر کے اعلان کیا کہ دونوں پارٹیاں پیر کو ایوان میں اعتماد کی تحریک کے دوران غلام نبی آزاد حکومت کے خلاف ووٹ دیں گے۔

ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کی خاطر غلام نبی آزاد کو 44 ممبران کی حمایت درکار ہے اور انہیں اپنے اکیس ممبران، پندرہ آزاد اُمیدواروں اور کچھ دیگر چھوٹی پارٹیوں سمیت اڑتیس ممبران کی واضح حمایت حاصل ہے۔

غیر حاضری پر امید
 اگر سبھی ممبران پیر کے روز ایوان میں موجود تھے تو مسٹر آزاد کو نیشنل کانفرنس یا پی ڈی پی کے کم از کم چھ ممبران کی حمایت درکار ہوگی۔لیکن کانگریس کو اُمید ہے کہ اس کے حق کئی ممبران غیرحاضر رہینگے

ریاستی آئین پر گہری نظر رکھنے والے سابق وزیرخزانہ اور نیشنل کانفرنس ایم ایل اے، عبدالرحیم راتھر نے بی بی سی کو بتایا ’آئین کی رُو سے مسٹر آزاد کو صرف اُن ہی لوگوں کی اکثریت ثابت کرنا ہوگی، جو پیر کے روز ایوان میں موجود ہونگے۔‘

اگر سبھی ممبران پیر کے روز ایوان میں موجود تھے تو غلام نبی آزاد کو نیشنل کانفرنس یا پی ڈی پی کے کم از کم چھ ممبران کی حمایت درکار ہوگی لیکن کانگریس کو اُمید ہے کہ اس کے حق میں کئی ممبران غیرحاضر رہیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ پی ڈی پی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید پہلے ہی ذاتی مصروفیت کی وجہ سے امریکہ میں مقیم ہیں اور پارٹی کے مزید دو ممبران غلام حسن میر اور سرفراز خان اعلانیہ بغاوت کرچکے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیراعلی اور ان کے دیگر ساتھی کافی دیر سے کہتے رہے ہیں کہ ان کے پاس اکثریت ہے اور وہ آسانی کے ساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیں گے
تاہم پی ڈی پی صدر محبوبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ مسٹر آزاد’منی بیگز‘ یعنی روپوں کی تھیلیاں دے کر ممبران کو خرید رہے ہیں۔

پی ڈی پی پچھلے کئی روز سے اپنے ممبران کو ’بغاوت‘ سے اجتناب کی تاکید کررہی ہے، یہاں تک کہ ایک بیان میں پی ڈی پی ترجمان نے کہا ہے کہ جو بھی ممبر حکومت کے حق میں ووٹ دے گا وہ اسمبلی کی رُکنیت سے خارج ہوجائے گا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعلٰی آزاد حکومت بچانے میں کامیاب نہ ہوئے تو یہاں گورنر راج نافذ ہو سکتا ہے، جس کے باعث نومبر ہونے والے انتخابات مزید چند ماہ کے لیے ملتوی بھی ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد