’ اعتماد کا ووٹ سات جولائی تک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں زیر اقتدار اتحادی حکومت سے پی ڈی پی کی علیحدگی کے بعد گورنر نے کانگریس سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد کو صوبائی اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے سات جولائی تک کی مہلت دی ہے۔ پچھلے ہفتے امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی کے معاملے پر حکومت میں کانگریس کی شریک پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اقتدار سے الگ ہوگئی تھی۔ دو نامزد ارکان سمیت کشمیر اسمبلی کُل نواسی ممبران پر مشتمل ہے، جس میں حزب اختلاف کے سب سے زیادہ یعنی چوبیس ممبران ہیں۔ 15 آزاد اُمیدواروں کے علاوہ حکمران کانگریس کے پاس 21، پی ڈی پی کے پاس 17 بی ایس پی ،بی جے پی اور جموں مکتی مورچہ کے پاس ایک ایک نشست ہے جبکہ نیشنل پینتھرس پارٹی کے 4 اور کمیونسٹ پارٹی کے 2 ممبران ہیں۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے ہفتے کو اپنے اپنے ارکان اسمبلی کے نام تاکیدی ہدایات (وِہپ) جاری کر کے اعلان کیا کہ دونوں پارٹیاں پیر کو ایوان میں اعتماد کی تحریک کے دوران غلام نبی آزاد حکومت کے خلاف ووٹ دیں گے۔ ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کی خاطر غلام نبی آزاد کو 44 ممبران کی حمایت درکار ہے اور انہیں اپنے اکیس ممبران، پندرہ آزاد اُمیدواروں اور کچھ دیگر چھوٹی پارٹیوں سمیت اڑتیس ممبران کی واضح حمایت حاصل ہے۔
ریاستی آئین پر گہری نظر رکھنے والے سابق وزیرخزانہ اور نیشنل کانفرنس ایم ایل اے، عبدالرحیم راتھر نے بی بی سی کو بتایا ’آئین کی رُو سے مسٹر آزاد کو صرف اُن ہی لوگوں کی اکثریت ثابت کرنا ہوگی، جو پیر کے روز ایوان میں موجود ہونگے۔‘ اگر سبھی ممبران پیر کے روز ایوان میں موجود تھے تو غلام نبی آزاد کو نیشنل کانفرنس یا پی ڈی پی کے کم از کم چھ ممبران کی حمایت درکار ہوگی لیکن کانگریس کو اُمید ہے کہ اس کے حق میں کئی ممبران غیرحاضر رہیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ پی ڈی پی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید پہلے ہی ذاتی مصروفیت کی وجہ سے امریکہ میں مقیم ہیں اور پارٹی کے مزید دو ممبران غلام حسن میر اور سرفراز خان اعلانیہ بغاوت کرچکے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیراعلی اور ان کے دیگر ساتھی کافی دیر سے کہتے رہے ہیں کہ ان کے پاس اکثریت ہے اور وہ آسانی کے ساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیں گے پی ڈی پی پچھلے کئی روز سے اپنے ممبران کو ’بغاوت‘ سے اجتناب کی تاکید کررہی ہے، یہاں تک کہ ایک بیان میں پی ڈی پی ترجمان نے کہا ہے کہ جو بھی ممبر حکومت کے حق میں ووٹ دے گا وہ اسمبلی کی رُکنیت سے خارج ہوجائے گا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعلٰی آزاد حکومت بچانے میں کامیاب نہ ہوئے تو یہاں گورنر راج نافذ ہو سکتا ہے، جس کے باعث نومبر ہونے والے انتخابات مزید چند ماہ کے لیے ملتوی بھی ہوسکتے ہیں۔ | اسی بارے میں کشمیر میں حُکمراں اتحاد ٹوٹ گیا 28 June, 2008 | انڈیا کشمیر:پرتشدد جھڑپیں، مظاہرین پر فائرنگ28 June, 2008 | انڈیا ’یاترا کا انتظام مقامی پنڈت کریں‘23 June, 2008 | انڈیا کشمیر: زمینوں کے حصول سے تنازع 22 June, 2008 | انڈیا امرناتھ یاترا پر تنازعہ14 June, 2008 | انڈیا یاتریوں پر بم حملہ، تیرہ زخمی21 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||