شرائن بورڈ تنازعہ: ہڑتال کا تیسرا دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کمشیر کے جموں شہر میں امرناتھ شرائن کومنتقل کی جانے والی زمین کی واپسی کے خلاف مسلسل تیسرے روز بھی مکمل ہڑتال رہی اور بعض مقامات پر پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر اتر آئے جنہوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔ بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو آنسوں گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے تقریبا چھ پولیس والوں کو مارا پیٹا ہے جس میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔ جموں کی ہی طرح ہندو اکثریت والے دوسرے علاقوں سے بھی پر تشدد مظاہروں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ہڑتال کی کال امرناتھ یاترا سنگھرش سمیتی نامی تنظیم کی جانب سے دی گئی ہے۔اس دوران دکانیں، تجارتی مراکز، تعلیمی ادارے اور بینک بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر میں بھی بہت کم تعداد ميں لوگ آئے۔ اس تنظیم ميں تقریبا تیس سماجی اور مذہبی تنظیموں کے ساتھ ساتھ بھاریتہ جنتا پارٹی بھی شامل ہے۔ ان کا مقصد شرائن بورڈ سے واپس لی گئی زمین کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔ تنظیم نے ہڑتال کی مدت 27 جولائی تک بڑھا دی ہے۔ بدھ کو ایک 20 سالہ نوجوان کلدیپ کمار ڈوگرا کی جانب سے جدوجہد کو مزید تیز کرنے کی غرض سے خودکشی کیے جانے کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔ زمین منتقلی کے خلاف مظاہرے گزشتہ یکم جولائی سے جاری ہیں اور اب تک اس میں دو افراد ہلاک اور تقریبا تین سو زخمی ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں شرائن بورڈ تنازعہ: جموں میں کرفیو24 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ، وزیراعلٰی مستعفی07 July, 2008 | انڈیا جموں میں حالات کشیدہ،کرفیو نافذ02 July, 2008 | انڈیا کشمیر: شرائن بورڈ سے زمین واپس01 July, 2008 | انڈیا کشمیر:پرتشدد جھڑپیں، مظاہرین پر فائرنگ28 June, 2008 | انڈیا زمین کی واپسی پر ہندؤوں کا احتجاج30 June, 2008 | انڈیا کشمیر: زمینوں کے حصول سے تنازع 22 June, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||