جموں میں کشیدگی، فوج طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے جموں شہر میں امرناتھ شرائن بورڈ کومنتقل کی جانے والی زمین کی واپسی کے خلاف مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے اور حالات پر قابو پانے کے لیے فوج کو طلب کیا گيا ہے۔ سنیچر کی صبح فوج نے جموں اور سامبا اضلاع میں کشیدگی والے علاقوں میں حالات کو معمول پر لانے کے لیے فلیگ مارچ کیا ہے ۔ ساتھ ہی حکام نے جمعہ کو جموں اور سامبا اضلاع ميں ایک بار پھر کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ جموں میں جمعہ کو حالات اس وقت کشیدہ ہوگیے جب شرائن بورڈ کو منتقل کی گئی زمین واپس لئے جانے کے خلاف پرتشدد مظاہرہ کرنے والوں پر پولیس نے فائرنگ کردی جس میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگیے۔ جموں ميں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے طاقت کا استعمال کیا اور آنسو گیس کو گولے داغے جس کے سبب تیس افراد زخمی ہوگیے ہيں۔ ادھر مدھیہ پردیش کی ہندو نواز سیاسی جماعت بھارتیہ جن شکتی پارٹی کی قومی صدر اوما بھارتی کو پولیس نے رہا کر دیا ہے۔ سنیچر کو صبح انہيں جموں میں پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔ رہائی کے بعد اوما بھارتی نے ادھمپور میں ایک عوامی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بالتل(زائرین سونہ مرگ سے بالتل کے ہی راستے تین ہزار آٹھ سو اٹھاسی میٹر کی بلندی پر واقع گپھا میں شِو لنگم کا درشن کرنے کے لیے پہنچتے ہيں)میں جاکر ہندوستانی قومی علم ترنگا لہرائیں گے۔ حکام نے ایک دیگر ہندو نواز رہنما سادھوی رتمبھرا کو بھی شہر ميں آنے سے روک دیا ہے، وہ جموں ميں ریلی کی قیادت کرنے والی تھیں۔ اس درمیان صحافیوں نے پولیس کے ذریعہ اپنے ایک ساتھی کی پٹائی اور شہر میں میڈیا کے افراد پر بندشوں کے خلاف ایک ریلی کا انعقاد کیا ہے۔ مظاہرین نے کئي مقامات پر شاہراہوں کو جام کر رکھاہے۔ جموں خطے میں گزشتہ دس دنوں سے زمین کے واپس لیے جانے کے خلاف مسلسل مظاہرے ہو رہے ہيں۔ مظاہروں کا انعقاد امرناتھ شرائن بورڈ کے لیے زمین کا مطالبہ کرنے والی تنظیم امرناتھ یاترا سنگھرش سمیتی کر رہی ہے۔ حالانکہ موجودہ تنار عے کے حل کے لیے حکومت نے امرناتھ یاترا سنگھرش سمیتی کو مذاکرات کی دعوت دی تھی لیکن حکومت کی یہ کوشش بے نتیبجہ رہی۔ امرناتھ سنگھرش سمیتی تقریبا تیس سماجی اور مذہبی تنظیموں پر مشتمل ہے۔اس تنظیم میں بھاریتہ جنتا پارٹی بھی شامل ہے۔ ان کا مقصد شرائن بورڈ سے واپس لی گئی زمین کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہرے کا آغاز اس وقت ہوا جب تیس جولائی کو ایک 20 سالہ نوجوان کلدیپ کمار ڈوگرا نے شرائن بورڈ کے لیے زمین کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کو مزید تیز کرنے کی غرض سے خودکشی کر لی تھی۔ زمین کی منتقلی کے خلاف مظاہرے گزشتہ یکم جولائی سے جاری ہیں اور اب تک اس میں دو افراد ہلاک اور تقریباً تین سو زخمی ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں زمین تنازعہ، جموں میں ہڑتال جاری 31 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ: ہڑتال کا ساتواں دن30 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ: ہڑتال کا تیسرا دن26 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ: جموں میں کرفیو24 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ، وزیراعلٰی مستعفی07 July, 2008 | انڈیا جموں میں حالات کشیدہ،کرفیو نافذ02 July, 2008 | انڈیا کشمیر: شرائن بورڈ سے زمین واپس01 July, 2008 | انڈیا کشمیر:پرتشدد جھڑپیں، مظاہرین پر فائرنگ28 June, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||