امرناتھ: مذاکراتی ٹیم کی تشکیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام جموں و کشمیر میں شری امرناتھ شرائن بورڈ کی زمین کے تنازعہ کے حل کے لیے صوبے کے گورنر نے ایک چار رکنی ٹیم تشکیل دی ہے جو شری امر ناتھ سنگھرش سمیتی سے مذاکرات کرے گی۔ سنگھرش سمیتی گذشتہ سینتیس دنوں سے شری امرناتھ شرائن بورڈ کو منتقل کی گئی زمین واپسی کے خلاف جموں ميں مظاہرے کر رہی ہے۔اس سے قبل بھی صوبائی حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کی تھی جسے سنگھرش سمیتی نے مسترد کر دیا تھا۔ ادھر اسی سلسلے میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کی بگڑتی صحت کی وجہ سے پولیس نے انہيں ہسپتال میں داخل کروا دیا ہے۔ یسین ملک گذشتہ تین دن سے بھوک ہڑتال پر تھے۔ انہوں نے جموں میں اقتصادی ناکا بندی کے سبب ہڑتال پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی چار رکنی ٹیم جموں و کشمیر کے سابق چیف سیکریٹری ایس ایس بلوریہ، جموں یونیورسیٹی کے وائس چانسلر امیتابھ مٹّو، جموں و کشمیر ہائي کورٹ کے سابق جج جسٹس جی ڈی شرما اور گورنر کے پرنسپل سیکریٹری بی بی ویاس پر مشتمل ہے۔ جمعرات کو بھی جموں و کشمیر دونوں مقامات پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جموں خطے کے جموں، سامبھا، کٹھوا، راجوری اور ادھمپور اضلاع ميں کرفیو نافذ ہے، تاہم ان علاقوں میں مظاہرے ہورہے ہيں۔ ادھر سنگھرش سمیتی نے وزیر اعظم کی صدارت ميں بدھ کو ہونے والی کل جماعتی میٹنگ میں سبھی سیاسی جماعتوں کی احتجاج واپسی کی اپیل کو خارج کر دیا ہے۔ سنگھرش سمیتی کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے متعلق انہيں کوئی اعتراض نہيں ہے، لیکن زمین کی واپسی کے مطالبے کو ترک کر دینے جیسے معاہدے قابل قبول نہیں ہوں گے۔ سنگھرش سمیتی کے کنووینر لیلا کرن شرما کا کہنا ہے کہ جب کل جماعتی میٹنگ میں ہمیں مدعو نہيں کیا گیا تو حکومت اور سیاسی رہنما کیسے پرامید ہوسکتے ہیں کہ سمیتی ان کی بات کو تسلیم کر لے گا؟ لیلا کرن نے دعوی کیا کہ جموں و کشمیر میں کہيں بھی کوئي کسی قسم کا فرقہ وارانہ معاملہ پیش نہيں آیا ہے۔ وادی اور جموں میں زمین تنازع بظاہرمذہبی خطوط پر منقسم ہے۔ بدھ کو وزیر اعظم منموہن سنگھ نے جموں کشمیر کے حالات کے مدنظر ایک کل جماعتی اجلاس طلب کی تھی جس میں سبھی سیاسی جماعتوں نے سنگھرش سمیتی سے اپیل کی تھی وہ احتجاج کی کال واپس لے لیں۔ واضح رہے کہ امرناتھ شرائن بورڈ زمین تنازع کے سبب ہندو اکثریت والے جموں اور مسلم اکثریت والے خطے کشمیر میں مظاہروں کے سبب اب تک متعدد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں جموں میں کشیدگی، فوج طلب02 August, 2008 | انڈیا زمین تنازعہ، جموں میں ہڑتال جاری 31 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ: ہڑتال کا ساتواں دن30 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ: ہڑتال کا تیسرا دن26 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ: جموں میں کرفیو24 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ، وزیراعلٰی مستعفی07 July, 2008 | انڈیا جموں میں حالات کشیدہ،کرفیو نافذ02 July, 2008 | انڈیا کشمیر: شرائن بورڈ سے زمین واپس01 July, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||