BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 August, 2008, 07:29 GMT 12:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امرناتھ: مذاکراتی ٹیم کی تشکیل
احتجاجی
جموں میں گذشتہ 37 دنوں سے زمین تنازع پر پرتشدد مظاہرے ہورہے ہيں
ہندوستان کے زیرانتظام جموں و کشمیر میں شری امرناتھ شرائن بورڈ کی زمین کے تنازعہ کے حل کے لیے صوبے کے گورنر نے ایک چار رکنی ٹیم تشکیل دی ہے جو شری امر ناتھ سنگھرش سمیتی سے مذاکرات کرے گی۔

سنگھرش سمیتی گذشتہ سینتیس دنوں سے شری امرناتھ شرائن بورڈ کو منتقل کی گئی زمین واپسی کے خلاف جموں ميں مظاہرے کر رہی ہے۔اس سے قبل بھی صوبائی حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کی تھی جسے سنگھرش سمیتی نے مسترد کر دیا تھا۔

ادھر اسی سلسلے میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کی بگڑتی صحت کی وجہ سے پولیس نے انہيں ہسپتال میں داخل کروا دیا ہے۔ یسین ملک گذشتہ تین دن سے بھوک ہڑتال پر تھے۔ انہوں نے جموں میں اقتصادی ناکا بندی کے سبب ہڑتال پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی چار رکنی ٹیم جموں و کشمیر کے سابق چیف سیکریٹری ایس ایس بلوریہ، جموں یونیورسیٹی کے وا‏ئس چانسلر امیتابھ مٹّو، جموں و کشمیر ہائي کورٹ کے سابق جج جسٹس جی ڈی شرما اور گورنر کے پرنسپل سیکریٹری بی بی ویاس پر مشتمل ہے۔

جمعرات کو بھی جموں و کشمیر دونوں مقامات پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جموں خطے کے جموں، سامبھا، کٹھوا، راجوری اور ادھمپور اضلاع ميں کرفیو نافذ ہے، تاہم ان علاقوں میں مظاہرے ہورہے ہيں۔

 امرناتھ شرائن بورڈ زمین تنازع کے سبب ہندو اکثریت والے جموں اور مسلم اکثریت والے خطے کمشرمیں مظاہروں کے سبب اب تک متعدد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگیے ہوئے ہیں

ادھر سنگھرش سمیتی نے وزیر اعظم کی صدارت ميں بدھ کو ہونے والی کل جماعتی میٹنگ میں سبھی سیاسی جماعتوں کی احتجاج واپسی کی اپیل کو خارج کر دیا ہے۔

سنگھرش سمیتی کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے متعلق انہيں کوئی اعتراض نہيں ہے، لیکن زمین کی واپسی کے مطالبے کو ترک کر دینے جیسے معاہدے قابل قبول نہیں ہوں گے۔

سنگھرش سمیتی کے کنووینر لیلا کرن شرما کا کہنا ہے کہ جب کل جماعتی میٹنگ میں ہمیں مدعو نہيں کیا گیا تو حکومت اور سیاسی رہنما کیسے پرامید ہوسکتے ہیں کہ سمیتی ان کی بات کو تسلیم کر لے گا؟

لیلا کرن نے دعوی کیا کہ جموں و کشمیر میں کہيں بھی کوئي کسی قسم کا فرقہ وارانہ معاملہ پیش نہيں آیا ہے۔ وادی اور جموں میں زمین تنازع بظاہرمذہبی خطوط پر منقسم ہے۔

بدھ کو وزیر اعظم منموہن سنگھ نے جموں کشمیر کے حالات کے مدنظر ایک کل جماعتی اجلاس طلب کی تھی جس میں سبھی سیاسی جماعتوں نے سنگھرش سمیتی سے اپیل کی تھی وہ احتجاج کی کال واپس لے لیں۔

واضح رہے کہ امرناتھ شرائن بورڈ زمین تنازع کے سبب ہندو اکثریت والے جموں اور مسلم اکثریت والے خطے کشمیر میں مظاہروں کے سبب اب تک متعدد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

کشمیر: احتجاج آٹھویں روز بھی جاریاحتجاج جاری
کشمیر: زمین کی منتقلی، آٹھویں روز بھی مظاہرے
فائل فوٹوکشمیر احتجاج
شرائن بورڈ زمین کی منتقلی پر ہنگامہ کیوں؟
فائل فوٹویاترا پر پھر تنازعہ
سالانہ امرناتھ یاترا تنازعہ کا شکار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد