BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر، ہلاکتیں کشیدگی میں اضافہ

جموں (فائل فوٹو)
جموں کشمیر میں پر تشدد مظاہرے چند ہفتوں سے جاری ہیں
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں امرناتھ شرائن بورڈ کی زمین کے تنازع پر پیر کو پولیس فائرنگ ميں تین افراد کی ہلاکت سے پورے خطے میں حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں اور سری نگر میں پھر سے احتجاج شروع ہو گیا ہے۔

مرکزی حکومت کوان حالات پر شدید تشویش ہے اور اطلاعات کے مطابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے اس مسئلے پر بدھ کے روز ایک کل جماعتی میٹنگ طلب کی ہے۔

جموں میں منگل کی صبح کرفیو میں تھوڑی نرمی کی گئی ہے لیکن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک اسے پوری طرح ہٹایا نہیں گيا ہے۔

پیر کو جموں میں دو مظاہرین اور سری نگر میں ایک مسلم نوجوان کی پولیس کی گولی سے ہلاکت کے بعد حالات خراب ہوئے ہیں اس لیے منگل کے روز بھی سری نگر کے علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کی خبریں آ رہی ہیں۔

جموں میں ہندو نظریاتی تنظیمیں امرناتھ شرائن بورڈ کو منتقل کی گئی زمین کی واپسی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہیں۔ مظاہرین نے سری نگر کو جانے والے نیشنل ہائی وے کو بھی جام کیا ہے۔

جموں خطے میں تقریبا ایک ماہ سے جاری ہڑتال اور بند سے سری نگر اور وادی کے علاقوں میں ضروری اشیاء اور دواؤں کی قلت ہوگئی ہے جس کے خلاف لوگ سری نگر میں بھی سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔

سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کے مطابق جموں میں بند کے سبب وادی میں بعض ضروری اشیاء کی قلت کا سامنا ہے اور گوشت کی کمی کے سبب بہت سی شادیاں منسوخ کر دی گئي ہیں۔

علیحدگی پسند رہنماؤں کا الزام ہے کہ جموں خطے میں ہڑتال کے دوران مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہورہا ہے۔ علیحدگی پسند رہنما یسین ملک نے منگل کے روز سے اس کے خلاف سری نگر میں ایک ہفتے کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور وادی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔

امراناتھ شرائن کو زمین دینے یا نا دینے کے معاملے پر جاری مظاہروں ميں اب تک متعدد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہيں۔

جموں خطے میں جموں، سامبھا، ادھمپور، راجوری اور کتھوا میں سنیچر سے ہی کرفیو نافذ ہے اور کرفیو کے موثر نفاذ کے لیے بڑی تعداد ميں فوج کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔ منگل کی صبح جموں میں ایک بس جلائے جانے کا نیا واقعہ پیش آیا ہے۔

پیر کو احتجاجی مظاہروں ميں سرکاری ڈاکٹروں نے بھی حصہ لیا۔ جموں ميں ڈاکٹر اجتماعی چھٹی پر چلے گئے ہیں اور شرائن بورڈ کے لیے زمین حاصل کرنے کی تحریک میں شامل ہوگئے ہيں۔

بعض دیہی علاقوں سے احتجاج کی خبریں ملی ہيں۔ سنیچر کو جموں خطے میں حالات بگڑنے کے سبب فوج کو طلب کیا گیا تھا۔

 صوبے کی مقامی سیاسی جماعت پینتھر پارٹی کے صدر پرفیسر بھیم سنگھ بھی شرائن بورڈ کو زمین واپس دلانے کی حمایت میں پیر سے بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے

سنیچر سے ہی موبائل فون پر شارٹ میسیجنگ سروس یعنی ایس ایم ایس کی خدمات معطل ہیں۔ ٹیلی فون کمپنی بھارت سنچار نگم لمیٹڈ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی حکام کے کہنے پر ایس ایم ایس کی ترسیل بند کردی گئي۔ واضح رہے کہ مظاہرین کو مشتعل کرنے میں ایس ایم ایس کا بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔

ادھر صوبے کی مقامی سیاسی جماعت پینتھر پارٹی کے صدر پرفیسر بھیم سنگھ بھی شرائن بورڈ کو زمین واپس دلانے کی حمایت میں پیر سے بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔

جموں خطے میں گزشتہ بارہ دن سے زمین واپس لیے جانے کے خلاف مسلسل مظاہرے ہو رہے ہيں۔ مظاہروں کا انعقاد امرناتھ شرائن بورڈ کے لیے زمین کا مطالبہ کرنے والی تنظیم امرناتھ یاترا سنگھرش سمیتی کر رہی ہے۔

امرناتھ سنگھرش سمیتی تقریباً تیس سماجی اور مذہبی تنظیموں پر مشتمل ہے۔اس تنظیم میں بھاریتہ جنتا پارٹی بھی شامل ہے۔ ان کا مقصد شرائن بورڈ سے واپس لی گئی زمین کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد