BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 August, 2008, 07:50 GMT 12:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امرناتھ: کل جماعتی مذاکرات میں تعطل
وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر کل جماعتی میٹنگ(فائل فوٹو)
جموں میں یکم جولائی سے زمین تنازعہ پر پرتشدد مظاہرے ہورہے ہيں
ہندوستان کے زیرانتظام جموں و کشمیر میں شری امرناتھ شرائن بورڈ کی زمین کے تنازعہ کے حل اور جموں میں احتجاجیوں سے مذاکرات کے لیے وزیر داخلہ شیوراج پاٹل کی قیادت میں ایک کل جماعتی وفد جموں پہنچ گیا ہے۔

جموں میں ہماری نامہ نگار بینو جوشی کے مطابق سنیچر کی صبح شیوراج پاٹل کا وفد جموں پہنچا اور وفد نے جموں راج بھون میں گورنر سے بات چیت کی۔

دریں اثناء شری امرناتھ شرائن بورڈ سے واپس لی گئی زمین کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے احتجاج کررہی شری امرناتھ سنگھرش سیمتی کے رہنماؤں نے شیوراج پاٹل کے وفد سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

سنگھرش سمیتی کا کہنا ہے کہ کل جماعتی وفد ميں کانگریس پارٹی کے رہنما سیف الدین سوز، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے سرپرست فاروق عبداللہ بھی شامل ہيں۔ بقول سنگھرش سمیتی یہی رہمنا زمین تنازعہ کے لیے ذمہ دار ہيں اس لیے ان رہمناؤں کی شراکت والے وفد سے مذاکرات کرنا ممکن نہیں ہے۔

سنگھرش سمیتی کے اس رویے کے پیش نظر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہمنا محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر وہ ایسا چاہتے ہيں تو کشمیری رہمنا اس بات چیت میں شامل نہيں ہوں گے۔ لیکن اس کے بعد بھی واضح نہیں ہے کہ وفد کی بات چیت سنگھرش سمیتی کے اہلکاروں سے ہوپائے گي۔

ادھر جموں شہر ميں کرفیوں ميں نرمی نہيں دی گئی ہے لیکن باوجود اس کے مظاہرین کئی مقامات پر اکٹھا ہوئے ہيں۔

 امرناتھ سنگھرش سمیتی تقریباً تیس سماجی اور مذہبی تنظیموں کا سنگم ہے۔اس تنظیم میں بھاریتہ جنتا پارٹی بھی شامل ہے۔ ان کا مقصد شرائن بورڈ سے واپس لی گئی زمین کو دوبارہ حاصل کرنا ہے
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سنگھرش سمیتی نے اپنے اس اعلان سے مرکز اور صوبائی حکومتوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ محض بات چیت کی رسم پوری کرنے سے معاملے کا حل نہيں نکلنے والا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ بدھ کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر امرناتھ زمین تنازعہ کے حل کے لیے ایک کل جماعتی میٹنگ ہوئی تھی جس میں ایک کل جماعتی وفد جموں اور کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا گيا تھا۔

ادھر اٹھارہ سیاسی جماعتوں پر مشتمل وفد کے جموں پہنچنے سے قبل سنگھرش سمیتی نے زمین کے حصول کے لیے احتجاج کی مدت 14 اگست تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ سنگھرش سیمتی جموں ميں کئی ہفتوں سے مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔

سنگھرش سمیتی کا کہنا رہا ہے کہ مذاکرات سے متعلق انہيں کوئی اعتراض نہيں ہے، لیکن زمین کی واپسی کے مطالبے کو ترک کر دینے جیسے معاہدے قابل قبول نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ امرناتھ شرائن بورڈ زمین تنازعے کے سبب ہندو اکثریت والے جموں اور مسلم اکثریت والے خطے کشمیر میں مظاہروں کے سبب اب تک متعدد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

امرناتھ سنگھرش سمیتی تقریباً تیس سماجی اور مذہبی تنظیموں کا سنگم ہے۔اس تنظیم میں بھاریتہ جنتا پارٹی بھی شامل ہے۔ ان کا مقصد شرائن بورڈ سے واپس لی گئی زمین کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔

کشمیر: احتجاج آٹھویں روز بھی جاریاحتجاج جاری
کشمیر: زمین کی منتقلی، آٹھویں روز بھی مظاہرے
فائل فوٹوکشمیر احتجاج
شرائن بورڈ زمین کی منتقلی پر ہنگامہ کیوں؟
فائل فوٹویاترا پر پھر تنازعہ
سالانہ امرناتھ یاترا تنازعہ کا شکار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد