امرناتھ معاملے پر کل جماعتی اجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے حالات کے مدنظر ایک کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس اجلاس میں امرناتھ شرائن بورڈ کو دی گئی زمین کی واپسی کے معاملے پر عام رائے بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ وہیں ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر ميں پر تشدد احتجاج جاری ہیں۔ کل جماعتی اجلاس سے قبل امر ناتھ شرائن بورڈ کے سبھی دس ممبر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہو نے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے اپنے اپنے استعفی گورنر این این وورا کو سومپ دیے ہیں۔ این این وورا اس بورڈ کے سابق چیئر مین ہیں۔ گورنر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ممبر نے مستعفی ہونے کا فیصلہ بورڈ کو نيے سرے سے قائم کرنے کی غرض سے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں گورنر نے جب امرناتھ سنگھرش سمیتی کے نماندگان سے ملاقات کی تھی تو انہوں نے بورڈ میں جموں اور کشمیر کے کئی نامور شخصیات کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ بورڈ کی کارکردگی پر عوام میں یقین دہانی پیدا کی جا سکے۔
امرناتھ شرائن بورڈ سمیتی میں کئی ہندو نظریاتی گروپ شامل ہیں جو ہندو اکثریت والے جموں خطے ميں امرناتھ معاملے پر پر تشدد احتجاج کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت والی وادی میں حکومت کی جانب سے جنگلات کی چالیس ایکٹر زمین امرناتھ شرائن بورڈ کو دیے جانے کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں وہیں ہندو اکثریت والے جموں خطے ميں اس آرڈر کو واپس لیے جانے کے خلاف پر تشدد احتجاج جاری ہے۔ وادی میں ہوئے احتجاج میں پانچ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو چکے ہيں اور جموں خطے میں گزشتہ دنوں ہوئے پر تشدد احتجاج میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم کی جانب سے طلب کیے گئے اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ اور جنرل سکریٹری بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی کے حصہ لینے کی امید ہے۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ دنوں وزیر اعظم اور کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے اس معاملے پر بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی ہے۔ بعض اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ نے بی جے پی کے رہنماؤں سے اپنی پارٹی کے زور کا استعمال کر کے جموں میں ہند نظریاتی گروپوں سے احتجاج روک کر وہاں امن قائم کرنے کو کہا ہے۔
لیکن بی جے پی نے امرناتھ زمین منتقلی کے معاملے پر 11 سے 13 اگست تک پورے ملک میں جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بی جے پی کے رہنما مختار نقوی کا کہنا ہے کہ امرناتھ بورڈ کو دی گئی زمین واپس لینے کے خلاف وہاں عوام خود ہی سڑکوں پر اتر ائے ہیں۔ سری نگر سے بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین نے بتایا ہے کہ بدھ کو علحیدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی نے وادی میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ جموں سے بی بی سی کی نامہ نگار بینو جوشی نے بتایا ہے کہ منگل کو دیر رات تک احتجاجی مظاہرے جاری رہے اور سب کی نظریں بدھ کو ہونے والی کل جماعتی اجلاس پر ہیں کہ اس میں کیا نتیجہ نکل کر آتا ہے۔ |
اسی بارے میں جموں میں کشیدگی، فوج طلب02 August, 2008 | انڈیا زمین تنازعہ، جموں میں ہڑتال جاری 31 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ: ہڑتال کا ساتواں دن30 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ: ہڑتال کا تیسرا دن26 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ: جموں میں کرفیو24 July, 2008 | انڈیا شرائن بورڈ تنازعہ، وزیراعلٰی مستعفی07 July, 2008 | انڈیا جموں میں حالات کشیدہ،کرفیو نافذ02 July, 2008 | انڈیا کشمیر: شرائن بورڈ سے زمین واپس01 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||