BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 August, 2008, 13:40 GMT 18:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زمین تنازعہ کا حل نکل آئے گا: پاٹل
شیوارج پاٹل(فائل فوٹو)
شیوراج پاٹل کے مطابق یہ واضح ہوگیا ہے کہ معاملے کا حل طاقت سے نہيں سمجھداری سے نکالا جاسکتا ہے
ہندوستان کے وزير داخلہ شیوراج پاٹل کا کہنا ہے کہ شری امرناتھ شرائن بورڈ سے متعلق زمین تنازعہ کا ایسا حل نکال لیا جائے گا جو سبھی فریقین کو قابل قبول ہوگا۔

شیوراج پاٹل نے یہ بات اتوار کو ہندوسستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں ریاست کی مختلف سیاسی جماعتوں سے میٹنگ کے بعد کہی ہے۔

ان کا کہنا تھا’اس سے بھی پیچیدہ مسئلے کا حل نکل سکتا ہے اس لیے ہم اس کا حل نکال لیں گے، سبھی فریقین نے بعض اہم مشورے دیئے ہیں جن پر غور و فکر کیا جائے گا۔‘

واضح رہے کہ وزير داخلہ کی سربراہی میں ملک کی اٹھارہ سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک وفد سنیچر سے ہی صوبے میں مختلف سیاسی جماعتوں، امرناتھ شرائن بورڈ سے واپس لی گئی زمین کی دوبارہ باز یابی کے لیے احتجاج کر رہی شری امرناتھ سنگھرش سمیتی سمیت سرکاری اہلکاروں سے مذاکرات کر رہا تھا۔

زمین تنازعہ کے سلسلے میں گذشتہ یکم جولائی سے جموں ميں مظاہرے جاری ہيں

وزیر داخلہ نے زمین تنازعہ کے سبب جموں ميں جاری مظاہرے اور سڑک جام کی وجہ سے فروٹ پیدا کرنے والوں کو ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کی بھی یقین دھائي کرا‏ئی ہے۔

’ہمیں بتایا گيا ہے کہ قومی شاہرہ پر ٹرکوں کا آمد و رفت بدستور جاری ہے، باوجود اس کے تاجروں کو سیکورٹی چاہیے تو انہیں پورا تحفظ دیا جائے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا’جن تاجروں کو نقصان ہوا ہے ان کو معاوضہ دیا جائے گا۔ میں نے صوبائی حکومت سے کہا ہے کہ وہ پھل پیدا کرنے والوں اور تاجروں کے نقصان کا تخمیہ لگائیں۔‘

شیوراج پاٹل نے تاجروں سے اپیل کی کہ وہ تجارت کے سلسلے میں متبادل راستہ اختیار نہ کریں ’ یہ نہ تو ریاست کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ملک کے مفاد میں ہے۔‘

واضح رہے کہ جموں میں مسلسل مظاہرے اور سڑک جام کے سبب سرینگر میں ضروری اشیاء اور ادویات کی کمی کے سبب تاجروں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر مظفرآباد کے بیچ سڑک کھولنے کے مطالبے کے ساتھ پیر کو مظفر آباد مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

غور طلب ہے کہ سنیچر کو اٹھارہ سیاسی جماعتوں کے اِس مشترکہ وفد نے جموں میں شری امرناتھ سنگھرش سمیتی کے رہمناؤں سے بات چیت کی تھی۔ جموں میں ہونے والی بات چیت بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئی تھی۔

تاہم دونوں فریقین نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی تھی کہ وہ آئندہ بھی اس مسئلے پر گفت و شنید کرتے رہیں گے۔

سنیچر کی صبح یہ وفد سنگھرش سمیتی کے اہلکاروں سے مذاکرات کے لیے جموں گیا تھا لیکن سمیتی نے وفد میں شامل پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی، نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ اور کانگریس پارٹی کے رہنما سیف الدین سوز کی موجودگی کے سبب بات چیت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

گزشتہ بدھ کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر امرناتھ زمین تنازعہ کے حل کے لیے ایک کل جماعتی میٹنگ ہوئی تھی

سنگھرش سمیتی کا کہنا تھا کہ یہی رہمناء زمین تنازعہ کے ذمہ دار ہیں اس لیے ان رہمناؤں کی موجودگی میں مذاکرات کرنا ممکن نہیں ہے۔

بعد ازاں سنگھرش سمیتی کے اس رویے کے پیش نظر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہمنا محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر وہ ایسا چاہتے ہیں تو کشمیری رہمنا اس بات چیت میں شامل نہیں ہوں گے۔

محبوبہ مفتی کے اس بیان کے بعد سنگھرش سمیتی کل جماعتی وفد سے مذاکرات کرنے کے لیے راضی ہوگي۔ بات چیت ابھی ابتدائي مرحلے میں ہے۔

سنیچر کی صبح کل جماعتی وفد نے جموں پہنچنے کے بعد جموں راج بھون میں گورنر این این ووہرا سے بات چیت کی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ بدھ کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر امرناتھ زمین تنازعہ کے حل کے لیے ایک کل جماعتی میٹنگ ہوئی تھی جس میں ایک کل جماعتی وفد جموں اور کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا گيا تھا۔

ادھر اٹھارہ سیاسی جماعتوں پر مشتمل وفد کے جموں پہنچنے سے قبل سنگھرش سمیتی نے زمین کے حصول کےلیے احتجاج کی مدت 14 اگست تک بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ سنگھرش سیمتی جموں ميں کئی ہفتوں سے مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ امرناتھ شرائن بورڈ زمین تنازعے کے سبب ہندؤ اکثریت والے جموں اور مسلم اکثریت والے خطے کشمیر میں مظاہروں کے سبب اب تک متعدد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

امرناتھ سنگھرش سمیتی تقریباً تیس سماجی اور مذہبی تنظیموں پر مشتمل ہے۔اس تنظیم میں بھاریتہ جنتا پارٹی بھی شامل ہے۔ ان کا مقصد شرائن بورڈ سے واپس لیگئی زمین کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔

کشمیر: احتجاج آٹھویں روز بھی جاریاحتجاج جاری
کشمیر: زمین کی منتقلی، آٹھویں روز بھی مظاہرے
فائل فوٹوکشمیر احتجاج
شرائن بورڈ زمین کی منتقلی پر ہنگامہ کیوں؟
فائل فوٹویاترا پر پھر تنازعہ
سالانہ امرناتھ یاترا تنازعہ کا شکار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد