BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 August, 2008, 07:55 GMT 12:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زمین تنازعہ: سری نگر میں مذاکرات
شیوارج پاٹل(فائل فوٹو)
شیوراج پاٹل کے مطابق یہ واضح ہوگیا ہے کہ معاملے کا حل طاقت سے نہيں سمجھداری سے نکالا جاسکتا ہے
ہندوستان کے زیرانتظام جموں و کشمیر میں شری امرناتھ شرائن بورڈ کی زمین کے تنازعہ کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک وفد اتوار کو سرینگر میں ریاست کی مختلف سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کررہا ہے۔

سنیچر کو اٹھارہ سیاسی جماعتوں کے اِس مشترکہ وفد نے جموں میں شری امرناتھ سنگھرش سمیتی کے رہمناؤں سے بات چیت کی تھی۔ جموں میں ہونے والی بات چیت بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئی تھی۔

تاہم دونوں فریقین نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی تھی کہ وہ آئندہ بھی اس مسئلے پر گفت و شنید کرتے رہیں گے۔

وزیر داخلہ شیو راج پاٹل نے جو اس وفد کی سربراہی کر رہے ہیں، نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’ہم نے دونوں فریقین کے مشورے کو غور سے سنا اور انہيں اپنے پاس درج کیا ہے۔ جلد ہی کوئی فصیلہ کیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا ’یہ واضح ہوگیا ہے کہ معاملے کا حل طاقت سے نہيں سمجھداری سے نکالا جاسکتا ہے۔‘

واضح رہے کہ سنیچر کی صبح یہ وفد سنگھرش سمیتی کے اہلکاروں سے مذاکرات کے لیے جموں گیا تھا لیکن سمیتی نے وفد میں شامل پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی، نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ اور کانگریس پارٹی کے رہنما سیف الدین سوز کی موجودگی کے سبب بات چیت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

گزشتہ بدھ کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر امرناتھ زمین تنازعہ کے حل کے لیے ایک کل جماعتی میٹنگ ہوئی تھی

سنگھرش سمیتی کا کہنا تھا کہ یہی رہمنا زمین تنازعہ کے لیے ذمہ دار ہيں اس لیے ان رہمناؤں کی موجودگی میں مذاکرات کرنا ممکن نہیں ہے۔

بعد ازاں سنگھرش سمیتی کے اس رویے کے پیش نظر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہمنا محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر وہ ایسا چاہتے ہيں تو کشمیری رہمنا اس بات چیت میں شامل نہيں ہوں گے۔

محبوبہ مفتی کے اس بیان کے بعد سنگھرش سمیتی کل جماعتی وفد سے مذاکرات کرنے کے لیے راضی ہوگي۔ بات چیت ابھی ابتدائي مرحلے میں ہے۔

سنیچر کی صبح کل جماعتی وفد نے جموں پہنچنے کے بعد جموں راج بھون ميں گورنر این این ووہرا سے بات چیت کی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ بدھ کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر امرناتھ زمین تنازعہ کے حل کے لیے ایک کل جماعتی میٹنگ ہوئی تھی جس میں ایک کل جماعتی وفد جموں اور کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا گيا تھا۔

ادھر اٹھارہ سیاسی جماعتوں پر مشتمل وفد کے جموں پہنچنے سے قبل سنگھرش سمیتی نے زمین کے حصول کے لیے احتجاج کی مدت 14 اگست تک بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ سنگھرش سیمتی جموں ميں کئی ہفتوں سے مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ امرناتھ شرائن بورڈ زمین تنازعے کے سبب ہندو اکثریت والے جموں اور مسلم اکثریت والے خطے کشمیر میں مظاہروں کے سبب اب تک متعدد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

امرناتھ سنگھرش سمیتی تقریباً تیس سماجی اور مذہبی تنظیموں پر مشتمل ہے۔اس تنظیم میں بھاریتہ جنتا پارٹی بھی شامل ہے۔ ان کا مقصد شرائن بورڈ سے واپس لی گئی زمین کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔

کشمیر: احتجاج آٹھویں روز بھی جاریاحتجاج جاری
کشمیر: زمین کی منتقلی، آٹھویں روز بھی مظاہرے
فائل فوٹوکشمیر احتجاج
شرائن بورڈ زمین کی منتقلی پر ہنگامہ کیوں؟
فائل فوٹویاترا پر پھر تنازعہ
سالانہ امرناتھ یاترا تنازعہ کا شکار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد