سرینگر میں’ یو این چلو‘ مہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اتوار کو ساتویں روز بھی ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج رہی، تاہم پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ تھم گیا ہے۔ ادھر ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں علیٰحدگی پسند قیادت نے اعلان کیا ہے کہ گیارہ اگست کو شروع کی گئی ’مظفرآباد چلو‘ تحریک جاری رہے گی۔ علیٰحدگی پسند قیادت نے عوام سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ پیر کو سرینگر میں تعینات اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے ہیڈکوارٹر کے باہر واقع ایک بڑے میدان میں جمع ہو جائیں جہاں اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کو کشمیر کی تازہ صورتحال سے متعلق ایک یادداشت پیش کی جائے گی۔ یہ اعلان اتوار کو سید علی گیلانی کی رہائشگاہ پر منعقدہ علیٰحدگی پسندوں ، تاجروں اور سماج کے دیگر طبقوں کے نمائندوں پر مشتمل رابطہ کمیٹی کے ایک طویل اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ اجلاس میں سید علی گیلانی کے علاوہ، میرواعظ عمر فاروق، شبیر احمد شاہ ، محمد یٰسین ملک، نعیم احمد خان، محمد سلیم نناجی اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران سید گیلانی اور میرواعظ عمر نے سوموار کو ’یو این چلو‘ پروگرام کا مقصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں پر یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ’کشمیریوں اور جموں کی مسلم اقلیتوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے‘۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ، ’حکومت کی ایجنسیاں عوامی ہجوم پر دستی بم پھینکنے یا فائرنگ کرنے کی کوشش بھی کر سکتی ہیں، لہٰذا لوگوں کو ہر لحاظ سے ہوشیار رہنا ہوگا‘۔ جموں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ، ’وہاں کی مسلم آبادی خوف زدہ ہے کیونکہ مقامی ہندوؤں پر مشتمل دیہی حفاظتی کمیٹیاں فوج اور نیم فوجی عملے کے ساتھ مل کر ان پر ظلم کرتے ہیں‘۔
میر واعظ نے عوام سے اپیل کہ وہ ہڑتال میں نرمی کے ایام میں بھی اپنے بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ لیں، اور اپنی نجی کاروں پر بھی سیاہ یا سبز پرچم لہرائیں جو بقول میر واعظ اس تحریک میں ہلاک ہونیوالوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی علامت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ’ لوگ ہر شام نماز مغرب سے نماز عشاء تک مشعل جلا کر اپنے اپنے علاقوں میں احتجاج کریں‘۔ دونوں رہنماؤں نے نوجوانوں سے پرزور الفاظ میں اپیل کی کہ وہ ، ’ان پروگراموں کے دوران پرامن رہیں، املاک کو نقصان نہ پنچائیں اور انتہائی نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں‘۔ وادی میں جاری اس احتجاجی تحریک کو ختم کروانے کے لیے حکومت ہند نے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ سطح پر کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اتوار کو سرینگر کے ڈپٹی کمشنر اور ایک سینئر پولیس افسر افہاد المجتبیٰ نے سید علی گیلانی اور میرواعظ کی قیادت والے حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے ساتھ رابطہ کیا۔ افہاد المجتبی نے بی بی سی کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ، ’ہم نے انہیں اپنے خدشات سے آگاہ کیا ہے۔ یہ ایک نازک پروگرام ہے۔ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کا ہیڈکوارٹر انتہائی حساس علاقہ میں واقع ہے۔ وہاں اونچی عمارتوں پر نیم فوجی اہلکار چوبیس گھنٹے چوکنے رہتے ہیں۔ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہم نے انہیں سمجھایا کہ وہ یواین مبصرین کے دفتر کے قریب آنے میں احتراز کریں‘۔ |
اسی بارے میں 13 مظاہرین ہلاک، کرفیو جاری12 August, 2008 | انڈیا شیخ عزیز ہلاک، سرینگر میں کرفیو 11 August, 2008 | انڈیا مظفرآبادمارچ: دو ہلاک، ستّر زخمی 11 August, 2008 | انڈیا زمین تنازعہ کا حل نکل آئے گا: پاٹل10 August, 2008 | انڈیا زمین تنازعہ: سری نگر میں مذاکرات10 August, 2008 | انڈیا امرناتھ: تعطل ختم، مذاکرات 09 August, 2008 | انڈیا امرناتھ: مذاکراتی ٹیم کی تشکیل07 August, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||