13 مظاہرین ہلاک، کرفیو جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے مختلف شہروں میں منگل کو پولیس اور مظاہرین کے درمیان تازہ تصادم میں کم از کم تیرہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہيں۔وادی میں حالات تاحال کشیدہ ہیں اور مظاہرے جاری ہیں۔ادھر جموں میں بھی ہندو مسلم جھڑپوں کے دوران دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز فائرنگ سے ہلاک ہونے والے حریت رہنما عبدالعزیز کی تدفین کے موقع پر بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا لیکن مظاہرین ان کی میت مزارِ شہدا لے گئے جہاں ان کی تدفین ہوئی۔ واضح رہے کہ پیر کو کنٹرول لائن عبور کرنے کی غرض سے شروع کیے جانے والے ’مظفرآباد مارچ‘ کے دوران فوج کی فائرنگ سےعلیٰحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کے رہنما شیخ عبدالعزیز سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
پیر سے ہی پوری وادی میں کرفیو نافذ ہے۔ تاہم بعض شہروں سے کرفیو کی خلاف وزریوں کے ساتھ ساتھ زبردست احتجاج کی خبریں آ رہی ہیں۔ شمالی ضلع بانڈی پورہ میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوج نے گولی چلائی جس میں چار افراد ہلاک اور دیگر پانچ زخمی ہوئے ہیں جبکہ پولیس نے سرینگر کے نواحی علاقے رینواری اور لاسجن میں بھی مظاہرین پر فائرنگ کی ہے جس میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بارہ مولہ میں ایک اور لنگیٹ میں دو افراد پولیس فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں اور سات افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حریت رہنما شیخ عبدالعزیز کی ہلاکت کے بعد پوری وادی میں مظاہروں میں شدت آئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ سرینگر کی جامع مسجد کے احاطے میں جمع ہوئے اور انہوں نے شیخ عبدالعزیز کی جنازے کی تیاریاں کیں۔ شیخ عزیز پینتیس سال قبل قائم شدہ علیٰحدگی پسند گروپ پیپلز لیگ کے ساتھ وابستہ رہے ہیں اور اُنیس سو نوے میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی لیگ کے عسکری بازو الجہاد کے ’چیف کمانڈر‘ بن گئے۔ ان کا تعلق ضلع پلوامہ کے پانپور قصبہ سے تھا۔ اس دوران اڑی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تقریباً ڈیڑھ ہزار افراد کنٹرول لائن کی طرف مارچ کر رہے ہیں۔ پورے خطے میں فوج بڑی تعداد میں موجود ہے۔ مقامی باشندے خواجہ ریاض احمد نے بتایا کہ مظاہرین کنٹرول لائن سے محض تین کلو میٹر کی دوری پر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مظاہرین نے فوج کے محاصرے کو توڑ کر جنگل پاور سٹیشن پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ پچھلے کئی ہفتوں سے جموں سے اشیائے ضرورت کی درآمد اور سرینگر۔جموں شاہراہ پر میوہ ٹرکوں کی نقل وحمل معطل ہونے کے خلاف وادی کے میوہ تاجروں نےعلیٰحدگی پسند گروپوں کی حمایت سے مظفرآباد مارچ کا اہتمام کیا تھا۔
ادھر جموں سے بی بی سی کی نامہ نگار بینو جوشی کے مطابق ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے جموں خطے میں بھی شری امرناتھ شرائن بورڈ سے واپس لی گئی اراضی کے خلاف مظاہرے جاری ہيں اور اس دوران ایک فرد ہلاک اور ایک درجن سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کرفیو کے باوجود جموں سے دو سو کلومیٹر دور واقع کشتواڑ میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تصادم ہوا ہے۔ دونوں فریقین ایک دوسرے کے املاک پر حملے کر رہے ہيں اور گھروں کو آگ بھی لگا ر ہے ہيں جس سے کئی مکانات اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ حکام کا کہنا ہے ان جھڑپوں میں ایک مسلمان ہلاک ہوگیا ہے اور بعد ازاں بھیڑ کو منتشر کرنے اور حالات کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس نے ہوائی فائرنگ بھی کی ہے۔ لیفٹینٹ کرنل ایس ڈی گوسوامی نے کہا کہ فوج کو مقامی حکام کے کہنے کے بعد حالات پر قابو پانے کے لیے کشتواڑ بھیج دیا گيا ہے۔ |
اسی بارے میں شیخ عزیز ہلاک، سرینگر میں کرفیو 11 August, 2008 | انڈیا مظفرآبادمارچ: دو ہلاک، ستّر زخمی 11 August, 2008 | انڈیا زمین تنازعہ کا حل نکل آئے گا: پاٹل10 August, 2008 | انڈیا زمین تنازعہ: سری نگر میں مذاکرات10 August, 2008 | انڈیا امرناتھ: تعطل ختم، مذاکرات 09 August, 2008 | انڈیا امرناتھ: مذاکراتی ٹیم کی تشکیل07 August, 2008 | انڈیا امرناتھ معاملے پر کل جماعتی اجلاس06 August, 2008 | انڈیا کشمیر، ہلاکتیں کشیدگی میں اضافہ05 August, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||