’تحریک آزادیِ کشمیر کا نیا شہید‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کے روز ’مظفرآباد مارچ‘ کے دوران فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے حریت رہنما عبدالعزیز کا شمار کشمیر کی ’آزادی کی تحریک‘ کے ممتاز رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ شیخ عبدالعزیز علیٰحدگی پسند گروپ پیپلز لیگ کے ساتھ وابستہ تھے اور کل جماعتی حریت کانفرنس کی صفوں میں بہت عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔وہ حریت کی ایگزیکیٹو کونسل کے رکن تھے۔ شیخ عبدالعزیز کا تعلق ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے پلوامہ ضلع سے تھا جہاں وہ سن انیس سو باون میں پامپور قصبے میں پیدا ہوئے۔ پامپور کا علاقہ زعفران کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پامپور کے سکول میں ہی حاصل کی اور میٹرک کے بعد وہ کھیتی باڑی میں اپنے والد کا ہاتھ بٹانے لگے۔ شیخ عبدالعزیز ابھی نوجوان ہی تھے جب سرینگر میں حضرت بل کے مزار سے پیغمبرِ اسلام کے موئے مبارک کی چوری کے بعد ایک عوامی احتجاج شروع ہو گیا جس نے بہت جلد مزاحمتی رنگ اِختیار کر لیا اور اس سے متاثر ہو کر شیخ عبدالعزیز سمیت آزادی نواز کشمیریوں کی ایک پوری کھیپ تیار ہو گئی۔ سنہ انیس سو بہتر میں شیخ عبدالعزیز نے آزادی نواز سیاسی گروپ ینگ مینز لیگ میں شمولیت اختیار کر لی جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کا حامی تھا۔
سن انیس سو تہتر میں ینگ مینز لیگ کئی دیگر آزادی نواز گروپوں میں ضم ہو گئی اور جموں و کشمیر پیپلز لیگ وجود میں آئی۔ شیخ عبدالعزیز سن انیس سو چھیاسی میں پیپلز لیگ کے جنرل سیکریٹری بنے اور سن انیس سو نوے تک اسی عہدے پر فائز رہے۔ انیس سو نوے میں تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی انہوں نے پیپلز لیگ کا یہ سیاسی عہدہ چھوڑ دیا، تنظیم کے مسلح بازو الجہاد میں شمولیت اختیار کر لی اور اس کے چیف کمانڈر بن گئے۔ کشمیر میں شورش کے دوران شیخ عبدالعزیز متعدد بار گرفتار ہوئے اور انہیں نے پندرہ سال سے زائد عرصہ جیل میں گزارنا پڑا۔ اکیس مئی سن انیس سو ترانوے میں انہیں الجہاد کے چیف کمانڈر کی حیثیت سے گرفتار کیا گیا اور وہ ستائیس ستمبر سن دو ہزار تک قید رہے۔ جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے مسلح جدوجہد کو ترک کر کے دوبارہ سیاسی دھارے میں شمولیت اختیار کر لی۔ تاہم انہیں دوبارہ یکم اگست سن دوہ ہزار ایک کو گرفتار کیا گیا اور وہ فروری دو ہزار چار تک قید رہے۔ آخری بار ان کی گرفتاری پانچ فروری سن دو ہزار پانچ کو عمل میں آئی اور وہ دسمبر دو ہزار سات تک قید رہے۔ جیل سے رہائی کے بعد وہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے نسبتاً معتدل مزاج دھڑے سے وابستہ ہو گئے جو بات چیت کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کی حل کی حمایت کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ان کی اہم سیاسی کامیابی شری امرناتھ شرائن بورڈ کے مسئلے پر آل پارٹیز حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کو قریب لانا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ شیخ عبدالعزیز کی ہلاکت سے ’تحریکِ آزادیِ کشمیر‘ کو ایک نیا ’شہید‘ مل گیا ہے جس سے کشمیر کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے ہونے والی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ | اسی بارے میں شیخ عزیز ہلاک، سرینگر میں کرفیو 11 August, 2008 | انڈیا امرناتھ: کل جماعتی مذاکرات میں تعطل09 August, 2008 | انڈیا کشمیر، ہلاکتیں کشیدگی میں اضافہ05 August, 2008 | انڈیا نندی گرام: ہڑتال سے زندگی مفلوج07 August, 2008 | انڈیا زمین تنازعہ: سری نگر میں مذاکرات10 August, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||