نعیمہ احمد مہجور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن |  |
 | | | شرائن بورڈ کے مسئلے نے ریاست کی برادریوں میں خلیج پیدا کردی ہے |
جس طرح افغانوں کے بارے میں ایک مثل مشہور ہے کہ کوئی انہیں زیر کرنے میں آج تک کامیاب نہیں ہوا بلکل اسی طرح کشمیریوں کے بارے میں عام ہے کہ وہ کسی کا چلینج یا للکار قبول نہیں کرتے۔ تاریخ میں اسکی کئی مثالیں موجود ہیں۔ سن انیس سو تریپن میں کانگریس حکومت کی مبینہ سازشوں کے نتیجے میں جب بھارت نواز کشمیری رہنما شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کو گرفتار کیا گیا جس نے اپنی قوم کی خواہشات کے برعکس بھارت سے الحاق کیا تو کشمیریوں نے اسے ایک بڑے چلینج کے طور پر لیاتھا۔ خود کشمیری اس وقت حیران رہ گئے کہ جس رہنما کو انہوں نے ’شیر کشمیر‘ کا درجہ دیا اور درختوں کی پتوں پر ان کا نام ورد کیا کرتے تھے انہوں نے ’پنڈت نہرو سے محض دوستی کے عوض‘ کشمیر کی سرزمین بھارت کی جھولی میں ڈال دی۔ اسکے باوجود کانگریس نے شیخ عبداللہ کی نیت پر شبہ کیا اور گیارہ برس تک زندان میں ڈالے رکھا۔ کشمیریوں کے خیال میں یہ ان کی عزت نفس پر پہلا وار تھا جسکے زخم اب تک رس رہے ہیں۔ مگر شیخ عبداللہ کے بیٹے اور سیاسی جانشین فاروق عبداللہ اس واقعے کو فوراً بھول گئے۔ اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے راجیو گاندھی فاروق سمجھوتے کے ذریعے نیشنل کانفرنس نےسینکڑوں نوجوانوں پر تشدد کرکےاور جیلوں میں بند رکھ کر انتخابات کے نتائج اپنے حق میں کر لیے۔ جیلوں سے رہائی حاصل کرنے کے بعد یہ تمام نوجوان مظفر آباد روانہ ہوئے جہاں انہیں نہ صرف سر آنکھوں پر بٹھایا گیا بلکہ اسلحہ اور تربیت دینے کی تمام ذمہ داری سرحد پار والوں نے خوب سنبھالی۔ سرحد پار والے آجکل خاموش ہیں اور دامن چھڑانے کی تلاش میں۔  | | | کانگریس سے اتحاد کے بعد نیشنل کانفرنس نے ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے اتحاد کیا | کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں کشمیریوں کو ووٹ دینے کے حق سے نہ صرف محروم کردیا گیا بلکہ اپنی مرضی سے اپنی انتظامیہ چننے کا بنیادی حق بھی چھینا گیا یہ تضحیک کا دوسرا وار تھا جس نے مسلح تحریک کی شکل اختیار کی اور ریاست کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ کانگریس سے اتحاد کرکے جی نہیں بھرا توخود کو سیکولر پارٹی کہلانے والی نیشنل کانفرنس نے ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے اتحاد کرکے کشمیری سیاست میں ایک زبردست ہلچل مچادی۔ جب سیاست کے منظر نامے پر پی ڈی پی کا وجود ہوا تو سب کو گمان تھا کہ وہ این سی کی غلطیوں سے ہٹ کے سیاست کرے گی مگر اس نے نیشنل کو بھی اس میدان میں مات دی۔ پی ڈی پی نیشنل کانفرنس سے بھی دو قدم آگے چلی گئی اور کانگریس سے ہاتھ ملا کر کشمیری سیاست میں نیا طوفان کھڑا کردیا۔ کانگریس اور پی ڈی پی کے اتحاد نے شرائن بورڈ کے مسئلے کو جنم دیا جس نے ریاست کی برادریوں میں ایسی خلیج پیدا کردی ہے کہ کوئی معجزہ ہی انہیں ایک دوسرے سے الگ نہ ہونے سے بچا سکتا ہے۔ کشمیری قوم میں یہ بات گھر کر گئی ہے کہ بھارت نےکشمیر کو ایک زر خرید لونڈی کی طرح تصور کیا ہے اور اسکی قسمت کے تمام فیصلے سرینگر کے بجائے دلی کے ایوانوں میں ہورہے ہیں اور فیصلےوہ لوگ کر رہے ہیں جنہیں کشمیر کی انا اور عزت نفس کا کوئی خیال نہیں۔ |