BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 July, 2008, 12:32 GMT 17:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: برف پگھل گئی، تشدد شروع

 کشمیر تشدد
شدت پسندوں کا نشانہ اکثر سکیورٹی اہلکار بنتے ہیں
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں تشدد کی تازہ لہر کے بعد سیاسی اور عوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ مبصرین اس صورتحال کے حوالے سے مختلف آراء رکھتے ہیں۔

پچھلے ایک ہفتے کے دوران جموں اور کشمیر کے علاقوں میں تشدد کی مختلف وارداتوں کے دوارن دو کنبوں کا تقریباً صفایا ہوگیا، جبکہ میجر سمیت دو فوجی، ایک پولیس افسر اورچار شدت پسند ہلاک ہوگئے۔

صرف جمعرات کے روز الگ الگ واقعات میں دو کنبوں پر مشتمل چھ بچوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے۔ جموں خطے میں نامعلوم مسلح افراد نے حزب المجاہدین کے سابق شدت پسند کو اس کے تین معصوم بچوں سمیت قتل کردیا جبکہ سرینگر میں بم دھماکے کی زد میں آ کر ایک غیر کشمیری مسلمان مہاجر مزدور کی بیوی اور چار کم سن بچے ہلاک ہوگئے۔

اس سے قبل اُنیس جولائی کو سرینگر کے نواحی علاقے نارہ بل میں حزب المجاہدین کی طرف سے شاہراہ پر بچھائی گئی بارودی سرنگ کی زد میں آکر فوج کے نو اہلکار ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے تھے۔ بیس جولائی کو شمالی کشمیر کے سیاحتی مقام گلمرگ میں بھی ایک دھماکہ ہوا جس میں ایک غیر کشمیری سیاح اور مقامی مرکبان ہلاک ہوگئے۔

اکیس جولائی کو بھی مسلح شدت پسندوں اور فوج کے درمیان مختلف مقامات پر ہونے والی جھڑپوں میں ایک میجر سمیت دو فوجی اہلکار اور چار مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے۔

بائیس جولائی کو ہندوستان کے وزیر دفاع اے کے انتونی نے انتخابات کو اپنے وقت پر منعقد کرانے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس میں رخنہ ڈالنے والوں کے خلاف فوج اور پولیس فورسز کو سنگین اقدامات کی تاکید کی۔ واضح رہے کہ کشمیر میں اسمبلی انتخابات نومبر کے وسط میں ہو رہے ہیں۔

کشمیر تشدد
کشمیر میں انتخابات سے پہلے تشدد بڑھ گیا ہے

صوبے میں انسداد تشدد کے لیے تعینات نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کے ترجمان پربھاکر ترپاٹھی کہتے ہیں: ’ کشمیر میں گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی پہاڑوں پر برف پگھلنے لگتی ہے جس کی وجہ سے ساڑھے سات سو کلومیٹر لائن آف کنٹرول یا ایل او سی پر دراندازی کے راستے ہموار ہوجاتے ہیں، اور اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ مسلح شدت پسند وادی وارد ہوکر تخریبی کارروائیوں کا منصوبہ بناتے ہیں۔‘

مسٹر ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ اس سال چونکہ الیکشن میں چند ماہ کا عرصہ باقی ہے، زیرزمین قوتیں تشدد کی سطح بڑھانے کے درپے ہیں۔ فوجی ترجمان کرنل انِل کمار ماتھر بھی اسی خیال کی تائید میں کہتے ہیں کہ ، ’دہشت گردوں کو الیکشن سے قبل تشدد کرنے سے پبلسٹی ملتی ہے، لہٰذا وہ اس عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔‘

لیکن اکثر مبصرین اس تھیوری سے متعلق تحفظات رکھتے ہیں۔ وہ حالیہ دنوں حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ کے سربراہان، سید صلاح الدین اور حافظ محمد سعید، کے ان بیانات کا حوالہ دیتے ہیں، جن میں دونوں نے الیکشن کے دوران ووٹروں یا الیکشن کے امیدواروں کے خلاف تشدد کے استعمال کو خارج از امکان قرار دیا تھا۔

نوجوان صحافی طارق علی میر کا کہنا ہے کہ ’حالیہ تشدد کی لہر کو ہندو شرائن بورڑ کو زمین کی منتقلی کے خلاف 23 جون سے یکم جون تک چلی عوامی تحریک کے پس منظر میں دیکھنا ہوگا۔ پورے نو روز تک کشمیر کے ہر بستی اور ہر محلے میں عدم تشدد کی تحریک برپا ہوگئی۔ اس سے عوام میں اعتماد بڑھ گیا کہ بندوق کے بغیر بھی وہ اپنے مطالبات کی طرف توجہ مبذول کروا سکتے ہیں۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ ایسی صورتحال میں تشدد حکومت کے مفاد میں ہے یا شدت پسندوں کے مفاد میں۔‘

تاہم اس حوالے سے قدرے مختلف رائے کا اظہار کرتے ہوئے کالم نگار ایم اے جاوید کہتے ہیں کہ ’زیرِ زمین مسلح گروپوں کو حالیہ عوامی تحریک سے حوصلہ ملا ہوگا اور وہ یہ سمجھ رہے ہونگے کہ کشمیری عوام ابھی بھی ہندوستان کے خلاف کسی بھی کارروائی کے حق میں ہیں، لہٰذا وہ تشدد کی کارروائیوں کے حق میں ہونگے۔ مگر کشمیریوں اور ان کے ہمدردوں کو سوچنا ہوگا کہ تشدد سے کس کے مفاد کی آبیاری ہورہی ہے۔‘

علیحدگی پسند اور بعض ہند نواز حلقے امن عمل کی سُست رفتاری کو بھی تشدد میں اضافے کا باعث سمجھتے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور ہندوستان کے جونئیر وزیرخارجہ رہ چکے عمرعبداللہ نے بدھ کے روز ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران حکومت ہند پر الزام عائد کیا کہ وہ حالات کو پیچھے کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اسی طرح لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یٰسین ملک بھی کئی مرتبہ یہ کہہ چکےہیں کہ اگر امن عمل ایک بے نتیجہ مشق ثابت ہوا تو حالات واپس اُنیس سو نوے کی سطح پر لوٹ سکتے ہیں۔

ان تمام آراء کے برعکس بعض سنجیدہ حلقوں کا ماننا ہے کہ کشمیر کے حالات کا پاکستان کے داخلی حالات کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جس قدر پاکستان اپنے اندرونی حالات پر قابو کھوتا چلا جائے گا، اسی نسبت سے کشمیر کے حالات بھی خراب ہوتے رہیں گے۔

اسی بارے میں
کشمیری ذہنی تناؤ کا شکار
27 December, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد