BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 July, 2008, 09:13 GMT 14:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر تصادم: پولیس اہلکار ہلاک

فائل فوٹو
فوج، سی آر پی ایف اور پولیس نے وارپورہ علاقے کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے فوج کے اشتراک سے جنوبی قصبے میں دو مسلح شدت پسندوں کو ایک رہائشی مکان میں گھیر رکھا ہے۔ طرفین کے درمیان منگل کی شب سے جاری فائرنگ کے تبادلے میں اب تک ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ فوج کے ایک لیفٹینٹ کرنل سمیت گیارہ اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

ایک پولیس اہلکار اے ایس پی امتیاز احمد کے مطابق یہ جھڑپ منگل کی شب اُس وقت شروع ہوئی جب مصدقہ اطلاع ملنے پر فوج اور پولیس نے سوپور سے آٹھ کلومیٹر دور وارپورہ علاقے میں غلام حسن وار کے دومنزلہ مکان کا محاصرہ کرلیا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب وہاں چھپے بیٹھے مسلح شدت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی گئی تو انہوں نے فائر کھول دیا، جس میں فوج کے ایک لیفٹینٹ کرنل سنجیو کمار سمیت چارفوجی اور تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

پولیس کے مطابق رات بھر وقفے وقفے سے فائرنگ ہوتی رہی اور بدھ کی صبح شدت پسندوں نے اپنی کمین گاہ کی طرف بڑھ رہے ایک پولیس دستے کونشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں پولیس کے ساتھ ’انسداد تشدد‘ کے لئے عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے ایک ایس پی او عبدالرشید ہلاک اور مزید تین اہلکار زخمی ہوگئے۔

 پولیس کے مطابق رات بھر وقفے وقفے سے فائرنگ ہوتی رہی اور بدھ کی صبح شدت پسندوں نے اپنی کمین گاہ کی طرف بڑھ رہے ایک پولیس دستے کونشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں پولیس کے ساتھ ’انسداد تشدد‘ کے لئے عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے ایک ایس پی او عبدالرشید ہلاک اور مزید تین اہلکار زخمی ہوگئے

امتیاز حُسین نے بی بی سی کوبتایا ’مکان میں جیش محمدی کے ہلال صوفی اور علی رضا نامی دو شدت پسند نے پناہ لی ہوئی ہے۔ ہلال صوفی مقامی نوجوان ہے جبکہ رضا کا تعلق پاکستان سے ہے۔ آپریشن جاری ہے اور ہم عام لوگوں اور مکان کو نقصان سے بچانے کی خاطر محتاط طریقہ سے آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

حُسین نے دعویٰ کیا کہ سوپور میں ہلال اور رضا آخری دو شدت پسند تھے۔ اور’اب سوپور کو شدد پسندی سے پاک کرلیا گیا ہے۔‘

فوج، سی آر پی ایف اور پولیس نے وارپورہ علاقے کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔ اور منگل کی شب سے ہی طرفین کے درمیان رُک رُک کر فائرنگ کا تبادلہ ہورہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے’اگر چھپے شدت پسندوں کا اسلحہ ختم ہوگیا تو انہیں مارگرانا آسان ہے۔ لیکن اگر وہ فائرنگ کرتے رہے تو مکان کو بارود سے اُڑانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔‘

اسی بارے میں
قبریں کھولنےکا کام معطل
06 February, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد