BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 August, 2008, 11:02 GMT 16:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: پاکستان عدم مداخلت خوش آئند

پاکستان نے بالخصوص مسلح تنظیموں کی بھر مار کر کے کشمیر تنازعے میں سب سے بڑا ابہام پیدا کیا۔
کشمیر میں جب بھی شورش اٹھی، تشدد ہوا یا مسلح تحریک کا آغاز ہوا ہر بار بھارت مخالف نعرے لگے اور پاکستان کےحق میں آواز بلند ہوئی حتی کہ سبز ہلالی پرچم لہرا کر عوام نے اپنے جذبات کا خوب مظاہرہ کیا۔

مگر حیرانی کی بات ہے کہ جب بھی ریاستی سطح پر کشمیر کے مستقبل پر رائے عامہ کے جائزے کروائےگئے ہیں تو ہر مرتبہ ساٹھ سے زائد فیصد لوگوں نے مکمل آزادی کے حق میں ووٹ دیا جس کے باعث کشمیر حل کے تعلق سے ہر بار ایک ابہام رہا اور صحیح طور سے معلوم نہیں ہوسکا کہ کشمیری اپنا مستقبل کس طرح سنوارنا چاہتے ہیں۔

مبصرین اس کی ایک وجہ یہ بتاتے ہیں کہ کشمیر میں شیخ عبداللہ کی سربراہی کے بغیر مضبوط سیاسی قیادت کا ہمیشہ فقدان رہا ہے اور جو قیادت اس وقت موجو د ہے وہ مختلف نظریات کی وجہ سے ایک دوسرے سے جدا ہے بلکہ ہر لیڈر نے اپنے محلےگلی اور علاقے میں اپنی اپنی سلطنت قائم کر رکھی ہے۔

سن نوے میں جب مسلح تحریک کا آغاز ہوا تو بندوق برداروں نے سیاسی قیادت کی طرح بے شمار تنظیمیں بنائیں اور سرداروں، جاگیرداروں کی طرز پر اپنی دھاک بٹھا دی۔

حالانکہ اکثر لوگ اس کی ذمہ داری بھارت پاکستان کے خفیہ اداروں پر ڈالتے ہیں جنہوں نے کشمیر میں قیادت کو کبھی متحد نہیں ہونے دیا۔ پاکستان نے بالخصوص مسلح تنظیموں کی بھر مار کر کے کشمیر تنازعے میں سب سے بڑا ابہام پیدا کر دیا۔

موجود شورش میں بے شمار سبز ہلالی پرچم لہرائے جا رہے ہیں ان جلوسوں میں بھی جو مکمل آزادی کے خواہاں لیڈروں کی سربراہی میں نکل رہے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کشمیری اتنے برسوں بعد بھی الحاق پاکستان کے حق میں ہیں۔

بعض تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ یہ نعرے اصل میں بھارت مخالف ہیں اور بیشتر دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے سبز پرچم لہراتے ہیں ورنہ پاکستان کے موجودہ ابتر سیاسی حالات دیکھ کر کوئی پاکستان سے کیسےملنے کی خواہش کرے یا اس سے کسی مدد کی توقع کیسے کرے۔

گو کہ پاکستان کی کشمیر کے حالات پر لمبے عرصے تک خاموشی اختیار کرنے پر کئی عوامی حلقوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے مگر پہلی بار پاکستان کے غیر مداخلتی طرز عمل سے ایک بات سامنے آئی ہے کہ بھارت کو عالمی سطح پر شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

بھارت کشمیر میں شورش پیدا کرنے کی ذمہ داری ہمیشہ پاکستان پر ڈالتا رہا ہے مسلح تحریک سے لے کر عوام کو سڑکوں پر آنے کا محرک پاکستان کو بتایا جاتا رہا ہے مگر اس بار پاکستان کی خاموشی نے بھارت کے ایوانوں میں ہلچل مچادی ہے کیونکہ بھارت کو موجودہ حالات کی ذمہ داری کو پاکستان کی جھولی میں ڈالنے کی ہمت نہیں ہے کیونکہ خود بھارت نواز سیاسی جماعتوں نے ہی شرائن بورڑ کا مسئلہ کھڑا کرکے امن کی تمام کوششیں ختم کردیں اور چھ سال سے جاری ’ہیلنگ ٹچ‘ پالیسی کو زمین بوس کردیا۔

ہوسکتا ہے کہ کشمیر اس وقت پاکستان کی ترجیحات میں شامل نہیں کیونکہ وہ نہ صرف خود سیاسی بحران میں گھرا ہے بلکہ مغربی سرحد پر پر تشدد حالات نے اسکی سالمیت کے لیے شدید چلینج کھڑا کر دیا ہے ایسے حالات میں کشمیر پر توجہ مرکوز نہ کرنا اس کی مجبوری بھی ہوسکتی ہے مگر بعض مبصرین کے خیال میں اگر کشمیری بغیر کسی سہارے کے اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھیں گے تو اپنے مطالبات حاصل کرنے سے شاید انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد