BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 July, 2008, 13:41 GMT 18:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جموں میں مظاہرے، کشیدگی برقرار

احتجاج
وشو ہندو پریشد نے زمین منتقلی کو واپس لیے جانے کے خلاف جمعرات کو ملک گیر بند کا اعلان کیا ہے
امرناتھ مندر بورڈ کو دی گئی زمین واپس لینے کے فیصلے کے خلاف جموں ميں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور مظاہروں کے دوران ایک شخص ہلاک اور کم از کم بارہ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

حالات پر قابو پانے کے لیے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

جموں کے ڈوڈا ضلع کے سینئر پولیس اہلکار رگھوبیر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ’بھدراؤ قصبے میں پرتشدد احتجاج کے بعد دستی بم پھینکنے کی کوشش کرتا ہوا ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔ وہاں کم سے کم 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے بعد بھدروا میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے‘۔

جموں میں مظاہروں کے دوران کئی مقامات سے تشدد کے واقعات کی خبریں ملی ہیں۔ جموں شہر کے تقریباً سبھی علاقے میں کرفیو نافذ ہے اور حالات کشیدہ ہیں۔

ہندو اکثریت والے جموں خطے ميں بھارتیہ جنتا پارٹی ، شیوسینا اور وشو ہندو پریشد جیسی تنظیمیں ریاست کے زمین منتقلی واپس لینے کے فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔بدھ کو ان تنظیموں نے مظاہروں کا کال دی تھی اور عوام سے کہا تھا کہ وہ کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلیں۔

منگل کو ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزيراعلیٰ غلام نبی آزاد کی صدارت میں کابینہ کی ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں امرناتھ بورڈ کو زمین دینے کے حکم کو منسوخ کر دیا گيا تھا۔ وشو ہندو پریشد نے زمین منتقلی کو واپس لیے جانے کے خلاف جمعرات کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

جموں میں کئی علاقوں میں دفعہ 144 لگائی دی گئی ہے۔ لیکن ایک بڑی تعداد میں جموں کے مضافتی علاقوں میں لوگ مظاہرے کر رہے ہیں۔ جموں سے تقریباً 180 کلومیٹر شمال مشرق میں ڈوڈا ضلع کے بھدرواہ قصبے میں صبح سے وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنان مظاہرے کررہے تھے۔

بھدرواہ میں ہندو مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پھر جب مسلمانوں کے خلاف نعرے لگائے گئے تو بعض مسلمانوں اور ہندو مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

جموں کے کشتواڑھ، بھدرواہ، نگروٹہ، مٹھی، کٹھووا، اور پونچھ راجوری علاقے میں وشو ہندو پریشد ، بجرنگ دل اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنان مظاہرے کررہے ہیں اور کئی جگہ تشدد کے واقعات ہوئے ہیں۔

کشتواڑھ میں منگل کو پولیس فائرنگ ہوئی تھی جس میں تیس افراد زخمی ہوئے تھے جن میں تین پولیس اہلکاروں کی حالت نازک ہے۔ بدھ کو وہاں پولیس فائرنگ ہوئی جس میں 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

وشو ہندو پریشد نے زمین دیے جانے کے فیصلے کو واپس لینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کے خلاف جمعرات کو ملک گیر بند کی کال دی ہے۔

اس سے قبل زمین کی منتقلی کے معاملے پر وادی میں پر تشدد احتجاج ہوئے تھے اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے اس معاملے پر کانگریس کی قیادت میں قائم مخلوط حکومت کی حمایت سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔

فائل فوٹویاترا پر پھر تنازعہ
سالانہ امرناتھ یاترا تنازعہ کا شکار
ہندو سادھو’شِو کہاں ہے؟‘
امرناتھ یاترا تنازعہ کا باعث بن گئی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد