کشمیراحتجاج: برتاؤ میں تضاد کا تاثر؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیارہ اگست کو جب انسانوں کا ایک سمندر کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن کی جانب بڑھا تو کسی کو یہ امید بھی نہیں تھی کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ اس مارچ میں حصہ لیں گے۔ کم از کم سرکاری اہلکاروں کے، جو مجوزہ مارچ کو گاڑیوں کے ٹائروں سے ہوا نکال کر ناکام بنانے کا منصوبہ بنا چکے تھے، وہم و گمان میں نہیں تھا کہ اتنے لوگ اس مارچ میں شریک ہوں گے۔ لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کی کال کشمیر کے پھل کاشت کرنے والوں نے دی تھی جن کا کہنا تھا کہ جموں کے ہندؤں نے سری نگر جموں نیشنل ہائی وے کو بند کر کے سری نگر کی اقتصادی ناکہ بندی ہے جس کے سبب انہیں لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ لیکن ہندوستانی حکام یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ سری نگر جموں نیشنل ہائی وے پر ٹریفک کے نظام میں رخنہ ڈالنے کی کوششوں کو اقتصادی ناکہ بندی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ریاست کے گورنر این این ووہرا نےاسے گاڑیوں کی آمد و رفت میں رخنہ قرار دیا ہے۔ لیکن اس سے کسی کو انکار نہیں کہ سری نگر کو پورے ملک سے ملانے والی ہائی وے غیر محفوظ ہو چکی ہے اور حکومت پھل کاشت کرنے والوں کی گاڑیوں کو سکیورٹی تو مہیا کر سکتی تھی۔
لائن آف کنٹرول کی جانب مارچ سے ایک روز قبل ہندوستان کے وزیر داخلہ شوراج پاٹل نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ پھل والوں کو ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے حکومت ان کی پیدوار خرید سکتی ہے۔ لیکن وزیر داخلہ کی اس تجویز سے پھل والے زیادہ متاثرنہیں ہوئے ہیں۔ بارہ مولا میں ایک میوہ فروش محمد اکبر نے وزیر داخلہ کی اس تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’پچھلی بار جب اولے پڑنے سے ہماری فصل خراب ہوگئی تھی تو حکومت کی جانب سے ہمیں مدد کا بھروسہ دلایا گیا تھا لیکن وہ مدد کبھی ہمیں نہیں پہنچی۔‘ محمد اکبر کا کہنا ہے کہ سری نگر جموں ہائی وے بند ہونے سے انہیں تقریباً دس لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔’میرے گھر والوں کے سامنے فاقہ کشی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔‘ ہندوستانی حکام مسٹر اکبر جیسے دیگر پھل فروشوں کی امیدوں پر پورے اترنے پر ناکام رہے ہیں۔ بظاہر یہ گزشتہ ساٹھ برس میں کشمیر کی جانب ہندوستانی حکومت کی غلط پالیسیوں کا ایک نمونہ ہے۔ کشمیر میں اقتصادی ناکہ بندی ایک دن ختم ہوجائے گی لیکن حالات پہلے جیسے معمول پر شاید ہی آ پائیں۔ اس ناکہ بندی سے عام آدمی نفسیاتی طور پر متاثر ہوا ہے خاص طور پر کشمیر کی تاجر برادری۔ کشمیر تاجر فیڈریشن کے صدر محمد صادق بیکال کہتے ہیں ’ یہ ایک شروعات ہے۔ ایسی ناکہ بندی مستقبل میں کبھی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ مظفرآباد کا راستہ کھولنا اب ہماری ضرورت بن گئی ہے‘ کشمیر کے ایوان و صنعت اور تجارت کے ادارے کشمیر چیمبرز اور کامرس کے صدر نذیر احمد ڈار کا کہنا ہے ’مظفرآباد کا راستہ کھولنا کوئی فرقہ پرستی یا پھر علحیدگی پسندی کا مطالبہ نہیں بلکہ صرف ایک اقتصادی مطالبہ ہے۔‘ یہ ایک غور کرنے والی بات ہے کہ اس مارچ کی کال پھل کاشت کرنے والوں نے دی تھی علحیدگی پسند اور ہندوستان نواز جماعتوں نے تو بعد میں ہی اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ماضی میں مظفرآباد کا راستہ کھولنا ایک سیاسی نعرہ تھا لیکن اب کشمیر کے تاجر اپنے اقتصادی حالات کے مد نظر پاکستان کا رخ کرنے کے لیے مجبور ہوگئے ہیں۔ ہندو قوم پرستوں کے ناکہ بندی کے منصوبے نےعلیحدگی پسند تحریک کو ایک معاشی پہلو بھی فراہم کردیا ہے۔ کشمیر ی عوام میں ایک تاثر جوگھر کرگیا ہے وہ یہ ہے کہ اس پورے احتجاج کے دوران پولیس، فوج نے ہندو احتجاجیوں کی طرف نرم رویہ دکھایا ہے۔ ریاست میں پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کلدیپ کھوڑا کو جواب دینے میں اس وقت مشکل پیش آئی جب منگل کو پریس کانفرنس میں صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیوں جموں میں چھ ہفتوں کے احتجاج میں صرف چھ ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ سری نگر میں صرف دو دنوں میں بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ریاستی حکام اور اہلکاروں کا جموں اور سری نگر میں ایک جیسے حالات کے باوجود بظاہر دوہرے رویے سے عام عوام کافی مایوس ہوئے ہیں اور اس احتجاج کے بعد اہلکاروں کے رويے پر کئی سوال پیدا ہوگئے ہیں جس کا کوئی سیدھا جواب مشکل ہی لگتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||