عمرعبداللہ،محبوبہ مفتی پر پتھراؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیرہ جولائی اُنیس سو اکتیس میں ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں اُس وقت کے ڈوگرہ مہاراجہ کی فوج کے ہاتھوں مارے گئے متعدد کشمیریوں کی یاد میں ہرسال منعقد ہونے والی تقریب کے دوران اتوار کو سرینگر میں مشتعل نوجوانوں نے ہندنواز رہنماؤں عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی پر پتھراؤ کیا۔ یہ واقعہ پُرانے سرینگر شہر میں ’مزار شہدا‘ کے صحن میں اُس وقت پیش آیا جب نیشنل کانفرنس کے رہنما عمرعبداللہ شہدا کے مزار پر گُل پاشی کے لیے ایک بڑے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے وہاں پہنچے۔ ’مزار شہدا‘ پر پہلے سے موجود سینکڑوں نوجوانوں نے عمرعبداللہ کے حامیوں کو دھردبوچا اور لیڈروں پر پتھراؤ کیا۔ پولیس کی مداخلت سے مسٹر عبداللہ گُل باری اور پندرہ منٹ کی تقریر کرنے میں کامیاب ہوگئے ، لیکن واپسی پر ان کے کارواں پر خانیار چوک کے قریب نقاب پوش نوجوانوں نے شدید پتھراؤ کیا۔ پتھراؤ کی وجہ سے ان کی گاڑی کونقصان پہنچا۔ نیشنل کانفرنس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ان کے ایک رہنما علی محد ساگر کو حملے میں چوٹ لگی ہے۔ مقامی ایس ایس پی بشیر احمد خان نے واقعہ کی تصدیق تو کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ تصادم میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ اس کے بعد سابقہ مخلوط حکومت میں شریکِ اقتدار رہ چُکی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یعنی پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی وہاں پہنچیں ، لیکن ان کے خلاف شیدید مظاہرے ہوئے۔ وہ جونہی مزار کے اندر داخل ہوئیں تو لوگوں نے پتھروں کی بارش کردی۔ اس موقعہ پر مشتعل بھیڑ کو قابو کرنے کے لیے پولیس نے ہوا میں گولیاں چلائیں۔ محبوبہ تقریر کئے بغیر ہی واپس چلی آئیں۔ عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی دو علاقائی پارٹیوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے قیادت کرتے ہیں اور دونوں ہندوستانی پارلیمان کے رُکن بھی ہیں۔ اُنیس سالہ شورش زدہ دور میں پہلی بار لوگوں نے یوم شہدا کے موقع پر ہند نواز لیڈروں پر پتھراؤ کیا جسکے نتیجہ میں کئی کارکن زخمی ہوگئے ہیں۔ اس دوران اتوار کو علیحدگی پسند اتحاد کے دونوں دھڑوں نے تیرہ جولائی کی یاد میں ہڑتال کی جو کال دی تھی اس کے ردعمل میں پوری وادی میں عام سرگرمیاں معطل رہیں۔ دونوں دھڑوں کے رہنماؤں سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق نے پائین شہر کے کئی علاقوں سے گزرنے والے جلوسوں کی قیادت کی اور بعد ازاں مزار شہدا میں عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ اُنیس سو اِکتیس میں کشمیر کا صوبہ مہاراجہ کی وساطت سے براہ راست برطانیہ کے زیرتسلط تھا، اور ہندوستان کی تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ لیکن پورے کشمیر میں ہندو مہاراجہ کے خلاف زبردست احتجاجی تحریک چل رہی تھی، جو بالآخر سرینگر سینٹرل جیل کے باہر ایک مقدمے کی سماعت کے دوران فائرنگ کے اُس واقعہ پر منتج ہوگئی جس میں درجنوں کشمیری ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ پچھلے ساٹھ سال سے اس دن کو ہندنواز اور ہندمخالف الگ الگ تاویلات کے ساتھ مناتے ہیں۔ حکومت اس دن کو شخصی راج کے خاتمہ اور جمہوریت کی فتح سمجھتی ہے جبکہ علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے قربانیوں کے سلسلے کا آغاز ہے۔اس نظریاتی اختلاف کے باوجود پچھلے بارہ سال میں یہ پہلا موقعہ ہے جب عوام نے ہندنوازں کے خلاف اس طرح کی ناراضگی کا مظاہرہ کیا ہو۔ |
اسی بارے میں کشمیر: گیلانی اور میر واعظ متفق21 May, 2008 | انڈیا کشمیر: علیٰحدگی پسندوں کا اتحاد 14 January, 2008 | انڈیا سرکاری اور غیر سرکاری یوم شہداء13 July, 2007 | انڈیا پلاسی: برصغیر میں قومی شناخت کا سوال23 June, 2007 | انڈیا مذاکرات میں تینوں فریق کو شامل کریں25 May, 2006 | انڈیا 130 بار مذاکرات ہوئے، کیا ملا؟23 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||