ریاض مسرور بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
 | | | دونوں رہنماؤں نے وزراء خارجہ سطح کی ہند پاک بات چیت کا خیرمقدم کیا ہے |
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پچھلے پانچ سال سے مذاکراتی عمل کے حوالے سے مختلف مؤقف رکھنے والے دو سینئر علیحدگی پسند رہنماؤں نے وزراء خارجہ سطح کی ہند پاک بات چیت کا خیرمقدم کیا ہے۔ حریت کانفرنس کے سخت گیر اور اعتدال پسند دھڑے کے سربراہوں نےدونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کو کسی بھی مفاہمتی عمل کی بنیاد بنایا جائے۔ بدھ کو ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علیٰحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کے سخت گیر دھڑے کی رہنمائی کرنے والے سید علی گیلانی نے کہا کہ ’ہم ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات کی بحالی لیے اُٹھائے جا رہے اقدامات کے خلاف نہیں ہیں۔ ان کے درمیان تجارت ہو، آنا جانا ہو اور یہ لوگ اچھے پڑوسیوں کی طرح رہیں۔ لیکن جب بات چیت اور امن عمل کی بات ہو تو کشمیر تنازعہ حل کیے بنا یہ ممکن نہیں۔ ہم پاکستان کے حکمرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہندوستان کے ساتھ بات چیت میں کشمیر تنازعہ کو کور اِشو (بنیادی مسئلہ) کے طور پرشامل کریں‘۔ مسٹر گیلانی کے مطابق ’گو کہ ہندوستان، امریکہ اور اسرائیل کے فوجی اتحاد کو دیکھتے ہوئے لوگوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیرکا تصفیہ بہت کٹھن ہوگیا ہے، لیکن ہمیں اُمید ہے کہ پاکستان کشمیر سے متعلق اپنے روایتی مؤقف پر ڈٹا رہے گا‘۔ اٹھارہ سال قبل اکیس مئی کو ایک پراسرار حملے میں قتل کیے جانے والے میر واعظ مولانا محمد فاروق کی برسی کے موقع پر ان کے فرزند اور اعتدال پسند حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے بھی کم و بیش گیلانی کا ہی بیان دوہرایا۔
 | اگر کشمیر مسئلہ شامل نہ کیا جائے  ہم ہند پاک بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن مذاکراتی عمل کے ایسے ادوار میں اگر کشمیر مسئلہ شامل نہ کیا جائے تو ان مذاکرات کا ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں ہے  عمر فاروق |
مزارِ شہدا میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کے دوران عمر فاروق نے کہا، ’ہم ہند پاک بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن مذاکراتی عمل کے ایسے ادوار میں اگر کشمیر مسئلہ شامل نہ کیا جائے تو ان مذاکرات کا ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں ہے‘۔ انہوں نے سخت گیر رکھنے والی حریت کانفرنس کے چئرمین ہیں سید علی گیلانی، لبریشن فرنٹ کے محمد یٰسین ملک اور پیپلز کانفرنس کے مقتول رہنما عبدالغنی لون کے فرزند سجاد غنی لون کو حریت وفد کے ہمراہ پاکستانی دورے کی دعوت دی اور کہا، 'ہم سبھی ایک مقصد کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور وہ مقصد ہے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلانا۔ حریت کانفرنس کو سن اُنیس سو ترانوے کی طرز پر متحد کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا ، 'ہم تو چاہتے ہیں کہ وسیع تر اتحاد ہو، اگر اس میں ہندنواز بھی شامل ہوجائیں تو مضائقہ نہیں۔ ہندنوازوں کے ہاتھ ہمارے خون سے رنگے ہیں۔ ہم معاف تو کرسکتے ہیں لیکن فراموش نہیں کرسکتے۔ میرواعظ نے کہا کہ ہم ہندوستان کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور ان کے پاکستانی ہم منصب یوسف رضا گیلانی کو کشمیر مدعو کرتے ہیں اور انہیں یہیں فیصلہ کن مذاکرات کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ واضح رہے پندرہ سال قبل ہند مخالف جدوجہد کی سیاسی سطح پر نمائندگی کے لیے مسئلہ کشمیر سے متعلق مختلف مکاتب خیال کے رہنماؤں نے حریت کانفرنس نام سے ایک اتحاد قائم کیا تھا جو سن دو ہزار تین میں دو دھڑوں میں تقسیم ہوگیا۔ ایک دھڑے کی قیادت سید علی گیلانی کر رہے ہیں، جو کسی دوطرفہ مذاکراتی عمل کے خلاف ہیں، جبکہ اعتدال پسند دھڑے کی قیادت فی الوقت میر واعظ عمر کر رہے ہیں۔
 | سخت گیر مؤقف اور مقبولیت  میر واعظ گروپ سخت گیر مؤقف اختیار کر رہا ہے۔ اگر یہ ماضی میں ہو چکے مذاکرات کے بے سود ثابت ہونے کے بعد حقائق کا اعتراف ہے تو پھر حریت کانفرنس کو عوامی قبولیت ضرور ملے گی  پروفیسر قاسم راتھر |
اعتدال پسند دھڑے نے نئی دلّی اور اسلام آباد کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے کئی ادوار کیے۔ اس دوران دونوں دھڑوں میں تلخیاں بھی پیدا ہوئیں۔ لیکن پچھلے چند ماہ سے میر واعظ دھڑے نے سخت گیر پوسچرنگ کرتے ہوئے حق خود ارادیت اور یو این قراردادوں پر عمل کا مطالبہ کرنا شروع کیا ہے۔ ایک نجی کالج میں تاریخ کے پروفیسر محمد قاسم راتھر نے اس سلسلے میں بتایا، ’کشمیر کے حالات میں تبدیلی آئی ہے۔ پاکستان ہند نواز سیاستدانوں کو اعتبار دیتا ہے اور نئی دلّی کو میر واعظ گروپ کے ساتھ مذاکرات کرنا سود مند نہیں لگتا۔ اسی پس منظر میں میر واعظ گروپ سخت گیر مؤقف اختیار کر رہا ہے۔ اگر یہ ماضی میں ہو چکے مذاکرات کے بے سود ثابت ہونے کے بعد حقائق کا اعتراف ہے تو پھر حریت کانفرنس کو عوامی قبولیت ضرور ملے گی۔ اور اگر یہ دلّی اور اسلام آباد کی توجہ مبذول کرنے کی خاطر کیا جا رہا ہے، تو پھر بات الگ ہے‘۔ |