کشمیر:پاکستانی نشریات معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مرکزی حکومت کی طرف سے پاکستان کے تمام نجی اور سرکاری ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ پابندی ایک ایسے وقت عائد کی گئی ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کے چوتھے دور کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ پورے کشمیر میں پی ٹی وی، جیو، آج، اے آر وائی، ڈان نیوز اور دیگر ٹی وی چینلوں کی نشریات پر پابندی نافذ کرنے کے لیے سرینگر کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شیخ اعجاز اقبال کو مقرر کیا گیا ہے۔ مسٹر اقبال نے حکمنامے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا ’ یہ حکمنامہ حکومت ہند کی وزارت اطلاعات و نشریات سے موصول ہوا ہے۔ ہم نے فوری طور مقامی کیبل آپریٹروں کو ہدایات جاری کردیں کہ وہ پاکستان کی تمام نشریات کو معطل کردیں۔‘ بھارت کے سب سے پہلے سیٹلائٹ چینل ’ زی ٹی وی‘ اور سرینگر کے ایک تجارتی ادارے ’جیمکیش ‘ کے اشتراک سے چلنے والے سب سے بڑے کیبل نیٹ ورک ’ ٹیک ون ٹی وی‘ کے نائب صدر عرفان احمد کا کہنا ہے ’چونکہ حکمنامہ میں لفظ وغیرہ کا استعمال کیا گیا ہے، لہٰذا ہم نے سبھی پاکستانی نشریات کو معطل کردیا ہے۔ اس زمرے میں خبروں کے علاوہ مذہبی امور سے متعلق چینل، جیسے کیو ٹی وی بھی آسکتے ہیں۔‘ کشمیر کیبل آپریٹرس ایسوسی ایش کے ترجمان تجمل احمد نے بتایا ’ویسے بھی کشمیر میں ڈی ٹی ایچ اور دیگر ٹیکنالوجی کافی دیر سے متعارف ہے، لیکن ان پر پاکستانی نشریات دستیاب نہ ہونے کے سبب لوگ کیبل ٹی وی ہی سبسکرائب کرتے تھے، کیونکہ تقریباً ساری آبادی پاکستانی ٹیلی ویژن دیکھتی ہے۔ یہ تو ہمارے روزگار پر لات مارنے کے مترادف ہے۔‘ اچانک اس طرح کی پابندی کی وجہ پوچھنے پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شیخ اعجاز نے بتایا ’ کیبل آپریٹروں نے پاکستان سے سگنل ٹرانسفر کے لیے کسی قسم کی اجازت بھی طلب نہیں کی ہے۔‘ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستانی نشریات پر پابندی کا یہ حکمنامہ کشمیر میں تیرہ برس قبل کیبل نشریات شروع ہونے کے بعد پہلی بار جاری کیا جارہا ہے۔ سماجی کارکن عبدالمُہیمِن نے اس حکمنامے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’ ہمارے بچپن میں پاکستان کی نشریات آسانی سے دستیاب نہیں تھی، لیکن لوگ گھروں کی چھت پر لمبی تاروں والا اینٹینا چڑھانے کے لیے نہ جانے کیا کیا جتن کرتے تھے، پھر بھی ری سیپشن اچھا نہیں ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے ہم پاکستان کا معروف گیم شو نیلام گھر بڑے شوق سے دیکھتے تھے۔ آج بھی اکثر لوگ اس شو کے پیش کار طارق عزیز کو پہچانتے ہیں۔‘ ہندنواز حلقوں نے پاکستانی نشریات پر پابندی کو ’افسوسناک‘ قرار دیا ہے جبکہ علیٰحدگی پسند حلقوں نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ حکمراں اتحاد میں شامل پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہندوستان کے کسی بھی حصے میں اس طرح کی پابندی نہیں، کشمیر میں یہ پابندی نافذ کرنا ’جانبدارانہ‘ فیصلہ ہے۔ عمر عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک طرف پاکستان کے ساتھ دوستیاں بڑھائی جارہی ہیں، اور دوسری طرف ’غیر ضروری ‘ اقدامات کیے جارہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ عمر عبداللہ اور محبوبہ نے مارچ میں پاکستان کا دورہ کرکے کئی سرکردہ پاکستانی سیاستدانوں کے ساتھ ملاقات کئیں تھیں۔ واضح رہے کہ ’پاکستانی پرپگنڈا ‘ کا توڑ کرنے کے لیے آٹھ سال قبل حکومت ہند کی وزارت داخلہ نے جموں کشمیر کے لیے علیحدہ ’ کاشِر چینل‘ قیام کیا تھا۔ لیکن اُس وقت کشمیر میں صرف پاکستان کا سرکاری چینل ’پی ٹی وی ‘ دیکھا جاتا تھا۔ جیو، آج اور دیگر چینلوں کی بھرمار بعد میں ہوئی۔ | اسی بارے میں یوم جمہوریہ: فوجی طاقت کی نمائش 26 January, 2008 | انڈیا یوم جمہوریہ:پوتن مہمان خصوصی26 January, 2007 | انڈیا سری نگر:دوشدت پسند مورچہ بند 15 January, 2005 | انڈیا صدام کی پھانسی کے خلاف ہڑتال 05 January, 2007 | انڈیا کشمیرمیں ملاقاتوں کا دورجاری 05 January, 2007 | انڈیا ’کشمیر سےدس ہزار افراد لاپتہ‘ 28 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||