کشمیر میں حزب المجاہدین کمزور؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتطام کشمیر میں سرگرم مسلح تنطیم حزب المجاہدین کو گزشتہ اُنیس سال میں پہلی بار صف اول کی قیادت کےخاتمہ کا سامنا ہے۔ پولیس ریکارڑ کے مطابق امسال تیس جنوری سے تین اپریل تک حزب کےسات ’اعلیٰ کمانڈروں‘ سمیت سترہ سرگرم جنگجو ہلاک ہوئے جبکہ دو اہم کمانڈروں سمیت پندرہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ گزشتہ سال حزب المجاہدین کے دو بڑے کمانڈروں سمیت چونتیس چھوٹے بڑے کمانڈر اور تین سو کارکن مارے گئے تھے۔ یہ ہلاکتیں پولیس اور نیم فوجی دستوں کے مشترکہ آپریشنوں کے دوران ہوتی رہیں، جس پر اتوار کو ایک پریس کانفرنس کے دوران مقامی پولیس کے سینئر افسروں نے اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ’الیکشن سے قبل تشدد کے امکانات کو ختم کردیا گیا ہے اور جموں کشمیر پولیس پوری طرح سے الیکشن کرانے کے لیے تیار ہے۔‘ حزب المجاہدین کے خلاف اس پیمانے پر آپریشنوں کا سلسلہ ایک ایسے وقت شدید ہورہا ہے جب پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مقیم حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر اور تقریباً چودہ مسلح گروپوں کے اتحاد، متحدہ جہاد کونسل، کے سربراہ سید صلاح الدین کئی ماہ سے جنگ بندی اور مذاکرات کی پیشکش کررہے ہیں۔ انہوں نے پچھلے سال عیدالفطر کے موقع پر یکطرفہ طور پر تین روزہ سیزفائر کا اعلان بھی کیا۔ بعدازاں صلاح الدین نے کہا کہ وہ آنے والے الیکشن کا بائیکاٹ نافذ کرنے کے لیے بندوق کا استعمال نہیں کرینگے۔ سن دو ہزار میں یکطرفہ جنگ بندی اورحکومت ہند کے ساتھ سرینگر میں مذاکرات کے بعد حزب المجاہدین کو پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں ہلاکت خیز آپریشنوں کا مسلسل سامنا ہے۔ بی بی سی کے ساتھ ایک گفتگو کے دوران جموں کشمیر پولیس کے انسپکڑ جنرل، شِوموراری سہائے نے بتایا کہ’حزب المجاہدین کے تمام تجربہ کار کمانڈر مارے گئے ہیں یا انہوں نے سرینڈرکیا۔ ہم مطمئین ہیں کہ پولیس کی قیادت میں ہونے والے آپریشن کامیاب ہورہے ہیں۔‘ تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ مقامی جنگجوؤں کو مذاکرات کے ذریعہ سیاسی مین سٹریم میں لانے کے بجائے انہیں ختم کرنے کی پالیسی غیر مقامی جنگجوؤں کے لئے میدان ہموار کرے گی۔ لیکن مسٹر سہائے اس دلیل کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں’مقامی ملی ٹینٹ جب مارا جاتا ہے تو لوگ ماتم کے لیے نکلتے ہیں۔ حال ہی میں ہم نے لشکر طیبہ کے چیف کو تیل بل میں مارا ، اس واقعہ کا خاص نوٹس نہیں لیا گیا۔ پھر بھی ہم پوری طرح کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔‘ کیا حزب المجاہدین کی عسکری پسپائی سے کشمیر میں علیحدگی پسند تحریک متاثر ہوگی؟ اس سوال کے جواب میں سابق جنگجو کمانڈر اور موجودہ حریت لیڈر محمد اعظم انقلابی کا کہنا ہے کہ’ہماری تحریک سن سینتالیس سے ہی مختلف مراحل سے گزری ہے۔ اُنیس سو پینسٹھ میں جب گوریلا مزاحمت کا منصوبہ ناکام ہوا تو ہندوستان کو لگا کہ کھیل ختم ہوگیا ہے، لیکن وہ کھیل پھر شروع ہوا۔ یہ تو مراحل ہیں جو آتے جاتے ہیں۔ اور پھر عسکری قیادت کی اپنی سٹریٹجی ہوتی ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوگا۔‘
سن دو ہزار میں پندرہ روزہ سیز فائر کے دوران حزب المجاہدین اور نئی دلّی کے درمیان مذاکرات میں حصہ لینے والے حزب کے چیف کمانڈر عبدالمجید ڈار سمیت تقریباً سبھی کمانڈروں کو مختلف آپریشنوں میں ہلاک کیا گیا ہے۔ صرف دو کمانڈر زندہ بچے ہیں جن میں سے ڈاکٹر اسد یزدانی پاکستان میں ہیں جبکہ ظفر عبدالفتح نے مسلح مزاحمت ترک کر دی ہے اور سیاسی جماعت حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے میں شامل کر لی ہے۔ ظفر، جو دوہزار تین تک حزب کے ایک کمانڈر تھے، کہتے ہیں’یہ کہنا کہ دھچکہ نہیں لگا ہے، غلط ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ حزب کی قیادت سے حکمت عملی ترتیب دینے یا حالات کوبھانپنے میں غلطی ہوئی ہو، لیکن پھر بھی ہم سمجھتے ہیں کہ حزب المجاہدین کی سب سے بڑی طاقت عوامی مقبولیت ہے۔ اسے ختم کرنا ناممکن ہے۔‘ بعض علیٰحدگی پسند حلقے سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے سابق فوجی سربراہ اور موجودہ صدر پرویز مشرف کی لچکدار پالیسی کی وجہ سے مسلح تحریک کمزور پڑگئی۔ تاہم کچھ ہند نواز لیڈروں کا ماننا ہے کہ تشدد کا آپشن ختم ہوجانے کے بعد سیاسی اور جمہوری ادارے مضبوط ہوجائینگے۔ |
اسی بارے میں کشمیر: رضاکاروں کی عوامی عدالت06 April, 2008 | انڈیا گمنام قبروں کی تحقیقات سے انکار02 April, 2008 | انڈیا قبریں کھولنےکا کام معطل06 February, 2007 | انڈیا فرضی مقابلے، قبریں کھولنےکا کام معطل05 February, 2007 | انڈیا جعلی مقابلے، تحقیقات کا حکم04 February, 2007 | انڈیا جعلی جھڑپ میں ہلاکت پر احتجاج31 January, 2007 | انڈیا فرضی تصادم، 16پولیس اہلکارگرفتار 03 February, 2007 | انڈیا گمنام قبروں کے انکشاف کے بعد رضاکار خوفزدہ02 April, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||