کشمیر: قیدیوں کے حق میں احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گُمنام قبروں کے انکشاف کے بعد مختلف جیلوں میں نظر بند کشمیریوں کو درپیش مبینہ زیادتیوں کے خلاف مقامی وکلا کی انجمن کشمیر بار ایسوسی ایشن ایک احتجاجی تحریک شروع کر رہی ہے۔ اس حوالے سے علیٰحدگی پسندوں کے سخت گیر اتحاد حریت کانفرنس کے سربراہ سید علی گیلانی اور بار ایسوسی ایشن نے پانچ اپریل یعنی ہفتے کو ریاست گیر ہڑتال کی مشترکہ کال دی ہے۔ کشمیر بار ایسوسی ایشن کے صدر نذیر احمد رونگا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم لوگ تو یوں بھی ایک بہت بڑی جیل میں رہ رہے ہیں۔ لیکن جو ہمارے ساتھی کشمیر کے علاوہ دیگر ہندوستانی جیلوں میں ہیں ان پر ظلم کیا جا رہا ہے۔ ہم نے اس کے خلاف عالمی رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے ہڑتال کی کال دی، جس کی حمایت گیلانی صاحب نے بھی کی۔‘ مسٹر رونگا کا کہنا ہے کہ وہ اس احتجاجی مہم کے دوران کنٹرول لائن کے دونوں جانب ایک ’لانگ مارچ‘ کا بھی منصوبہ بنارہے ہیں، تاکہ ’ہندوستانی جیلوں میں کشمیریوں کے ساتھ ہو رہے ظلم پر کشمیر کے دونوں حصوں کے وکلاء ایک ہو کر عالمی توجہ کو اس مسئلہ کی طرف مبذول کرواسکیں۔‘
دریں اثناء عدالت عالیہ نے ایک عرضی کی سماعت کے دوران بار ایسوسی ایشن کے پانچ رکنی وفد کو تہاڑ، آگرہ اور الٰہ آباد جیلوں کے علاوہ جموں کشمیر کی جیلوں کا بھی دورہ کرنے اور وہاں قیدوں کے ساتھ تفصیلی ملاقات کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بار ایسوسی ایشن کے صدر مسٹر رونگا نے بتایا کہ، ’ہم لوگ اس دورے کے دوران مشاہدات کو مرتب کر کے دنیا بھر میں انصاف اور انسانی حقوق کے اداروں کو ارسال کرینگے۔‘ ایک اور عدالتی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے جموں کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے جموں کے کورٹ بلوال میں واقع ریاست کے مرکزی جیل کا دورہ کر کے جو رپورٹ عدالت کو پیش کی ہے اس میں انکشاف کیاگیا ہے کہ جیل میں قید کئی افراد ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورٹ بلوال جیل میں قید ایک افغان قیدی محمد اشرف کینسر میں مبتلا ہے، جبکہ دس دیگر قیدیوں کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔ رپورٹ میں غیر ملکی قیدیوں کی سزا پوری ہونے پر انہیں وطن واپس بھیجنے پر زور دیا گیا ہے۔ سید علی گیلانی کی زیر قیادت حریت کانفرنس میں قائم لیگل ایڈ سیل کے سربراہ الطاف شاہ کا کہنا ہے کہ ریاست اور بیرون ریاست مختلف جیلوں میں ساڑھے چودہ سو کشمیری نظربند ہیں۔ تاہم ابھی تک اس حوالے سے سرکار یا کسی انسانی حقوق کےگروپ نے کوئی اعدادوشمار جاری نہیں کیے۔ جیلوں میں لمبی مدت کی سزا کاٹنے کے بعد رہا ہونے والوں کا کہنا ہے کہ کشمیری نظربندوں کے ساتھ ’غیرشائستہ سلوک‘ روا رکھا جا رہا ہے۔ ساڑھے گیارہ سال تک مختلف جیلوں میں نظربند رہنے والے سابقہ جنگجو بلال صدیقی نے بی بی سی کو بتایا ’علاج و معالجہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ کسی قیدی کو تکلیف ہو تو حوالدار دوائی لکھتا ہے، ڈاکٹر کی سہولت نہیں دی جاتی۔ مہینوں بعد جب کوئی مرنے کے قریب پہنچ جائے تو اس کی درخواست بڑے صاحب کی ٹیبل پر پہنچ پاتی ہے۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ، ’کورٹ بلوال جیل میں پولیس افسروں کا رویہ فرقہ پرستانہ ہوتا ہے۔ وہاں کے سپرنٹنڈینٹ ہمیں کہتے تھے کہ تم سب مسلمان ایسے ہی ہو۔ مذہبی رسوم کی ادائیگی میں رخنہ ڈالا جاتا تھا۔ حیرت تو یہ ہے کہ ریاستی جیلوں کے مقابلے تہاڑ جیل میں قدرے آسانی تھی۔‘ بلال نے دسمبر دو ہزار چھ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری نظربندوں کو چوروں اچکوں اور ڈاکؤں کے ساتھ رکھا جا رہا تھا، جس پر قیدیوں نے بھوک ہڑتال کی اور پرتشدد مظاہرہ بھی ہوا۔ |
اسی بارے میں گمنام قبروں کی تحقیقات سے انکار02 April, 2008 | انڈیا قبریں کھولنےکا کام معطل06 February, 2007 | انڈیا فرضی مقابلے، قبریں کھولنےکا کام معطل05 February, 2007 | انڈیا جعلی مقابلے، تحقیقات کا حکم04 February, 2007 | انڈیا جعلی جھڑپ میں ہلاکت پر احتجاج31 January, 2007 | انڈیا فرضی تصادم، 16پولیس اہلکارگرفتار 03 February, 2007 | انڈیا گمنام قبروں کے انکشاف کے بعد رضاکار خوفزدہ02 April, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||